خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 299
خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۹ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء جمع ہو جائے اور اپنے رب کے حضور اسلام ( لفظ اسلام اور معنی اسلام ) جو قربانی چاہتا ہے اس کو ہمیں پیش کرنا چاہیے ہماری یہ دعا اور یہ تمنا ہے۔غرض کسی سے بگاڑ نہیں نہ کسی سے نفرت اور دشمنی ہے اپنے آپ کو ہم کچھ سمجھتے نہیں نہ کبر نہ غرور نہ بڑائی اور نہ فخر ہے لاشے محض خود کو سمجھتے ہیں اور سوائے اللہ کے ہر دوسری ہستی کو لاشے محض سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بشارتوں پر پورا یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدے ہمیں تسلی اور تسکین دلاتے ہیں کہ آخر اسلام اور احمدیت کا غلبہ ہو گا۔خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے سلامتی کا سامان پیدا کیا ہے آگیں ہمارے لئے جلائی جائیں گی مگر ہمیں بھسم کرنے اور راکھ کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے معجزانہ ہاتھ دکھا کر دنیا پر یہ ثابت کرے کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کو نا کام نہیں کر سکتی دنیا کی کوئی آگ انہیں جلا نہیں سکتی۔دنیا کا کوئی منصوبہ انہیں منتشر نہیں کر سکتا۔جونئی پریشانی پیدا ہوئی ہے نوجوانوں کے دماغوں میں ہے پریشانی ہمارے لئے تو وہ کوئی پریشانی نہیں اسی کے سلسلہ میں دراصل میرا یہ خطبہ ہے اس سے پہلی رات مجھے ابھی پتہ نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ ساری رات مخالفین کی ناکامیوں اور جماعت کی کامیابیوں کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔کبھی قرآن کریم کی آیات کبھی اپنے فقرے اور بس نیم بیداری اور نیم غنودگی کی حالت میں قریباً ساری رات یہی کیفیت رہی میں صبح اٹھ کر بڑا خوش ہوا لیکن مجھے کچھ فکر بھی تھی کہ جب بہت تسلی دی جاتی ہے تو کہیں سے کوئی وار بھی ہونے والا ہوتا ہے چنانچہ بعد میں پتہ لگ گیا کہ یہ ایک وار ہوا ہے۔ایک چیز میں بھول گیا اس کا مجھے افسوس ہے خواب میں میں انگریزی میں تین فقرے کہتا ہوں تین مختلف انبیاء کی قوموں کے متعلق غالباً شرعی نبی جو پہلے گزرے ہیں۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوشا نہیں ہیں پہلی زندگی میں آپ دنیا پر محمد کی شان میں جلوہ گر ہوئے تھے اور اس زمانہ میں آپ اپنی احمد کی شان میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ہو سکتا ہے بلکہ میرا خیال بھی یہی ہے کہ یہ دوشا نیں اور ایک پہلے کے کسی نبی کی شان اور فقرے وہ ایسے ہیں کہ سوچ کر مجھے بڑا ہی افسوس