خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 19 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 19

خطبات ناصر جلد سوم ۱۹ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء پر تم خوش ہو گے لیکن یہ اجر میرے اجر کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔گویا دونوں چیزیں جزا اور سزا ان آیات میں بیان ہو گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مرکز میں رہنے والوں کو بھی ان آیات میں مخاطب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ الہی سلسلہ جاری ہوا اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کی توفیق دی۔لوگوں نے تمہاری بڑی مخالفت کی اور اس مخالفت سے بچنے کے لئے ہم نے یہ انتظام کیا کہ ایک مرکز قائم کر دیا (فاوسکھ ) اور اس مرکز کے قیام کے ساتھ ایکكُم بِنَصْرِه ہم نے اپنی آسمانی تائیدات سے تمہاری مدد کی اور وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيْبَتِ (النَّحل :۷۳) تمہارے لئے دُنیوی فوائد کا سامان کیا۔الہی سلسلے (اسلام کے اندر بھی ) جب بھی قائم ہوتے ہیں اور اسلام بحیثیت مجموعی بھی پناہ کی جگہ بھی ہوتے ہیں اور پناہ کا سبب اور ذریعہ بھی ہوتے ہیں اب ہمارے پاس یہاں ہر طرف سے اطلاع آتی ہے اگر یہاں سے سات سو میل ڈور کوئی ایسا واقعہ ہو جائے جو اپنے حالات کے مطابق یہ مطالبہ کرے کہ ان لوگوں کو پناہ ملے تو فوراً ہمارا آدمی یہاں سے روانہ ہو جاتا ہے۔پس مرکز پناہ کی جگہ بھی ہے اور پناہ کا موجب بھی ہے اور پھر مرکز الہی تائیدات اور آسمانی نشانوں کو جذب کرنے کا ایک مرکزی نقطہ بھی ہے کیونکہ یہاں خلیفہ وقت ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس آدمی کی دعائیں پہنچیں گی جس پر اُس نے ذمہ واری ڈالی ہے وہ خدا سے کہے گا کہ میں ایک عاجز انسان ہوں مجھ میں کوئی طاقت نہیں ہے مجھ میں کوئی ہنر نہیں ہے مجھ میں کوئی علم نہیں ہے میرے پاس کوئی سیاسی اقتدار نہیں ہے اور ساری جماعت کی ذمہ واری اے میرے رب! تو نے مجھ پر ڈال دی ہے اگر تیری مدد میرے شامل حال نہ ہو تو میں تو کچھ نہیں کر سکتا جب اس رنگ کی دعا دوسرے سب دوستوں کی دعاؤں کے ساتھ مل کر آسمان پر پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول کرتا ہے اور جماعت کے لئے حفاظت اور امن اور بہتری اور خوشحالی کے سامان پیدا کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہارے لئے طیبات کا سامان پیدا کیا ہے اب اس کے لئے بھی مرکز ہی مرکزی نقطہ ہے کیونکہ مثلاً اگر سرگودھا میں ہمارا ایک ذہین طالب علم، گجرات میں ہمارا ایک ذہین طالب علم ، سندھ میں ہمارا ایک ذہین طالب علم، کراچی میں ہمارا ایک ذہین طالب علم،