خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 297 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 297

خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۷ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء ہیں ان سے ہم نے زیادہ پیار کرنا ہے لیکن کسی کے کہنے سے اگر کوئی کچھ فکر کرتا ہے تو اسے اپنی تاریخ کا پتہ نہیں۔میں نے بتایا ہے کہ چوٹی کے دوسو علماء نے اس وقت کفر کا فتوی دیا جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ چند آدمی تھے چنانچہ چوٹی کے ان دوسو علماء کے کفر کے فتووں نے آپ کا کچھ نہیں بگاڑا کیونکہ خدا نے کہا تھا کہ یہ میرے پیارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب ترین روحانی فرزند ہے اسے میں اپنی گود میں بٹھاؤں گا اور یہ میری پناہ میں رہے گا دنیا جو مرضی کر لے لوگ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بے شمار وعدے ہیں آپ کو دیکھنے چاہئیں مجھے بتانے چاہئیں میں انشاء اللہ بتاؤں گا ہمارا انہوں نے کیا بگاڑا ؟ جو آج ایک یا دو یا زیادہ جو اُن مولویوں کے مقابلے میں ظاہری علمیت بھی کچھ نہیں رکھتے ان کے کفر کے فتوے ہمارا کیا بگاڑ لیں گے؟ جو مرضی کرتے رہیں۔ہمیں جو کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم ان کے لئے دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے ان کے اندھیروں کو دُور کرے اور ان کے سینوں کو نور سے بھر دے۔اللہ تعالیٰ جس طرح ہم سے پیار کر رہا ہے اور ہمیں اس کا اہل سمجھتا ہے ( خدا کرے کہ ہم اس کے اس پیار کے ہمیشہ ہی اہل رہیں اور ) اسی طرح یہ لوگ بھی اس کے پیار کے اہل بن جائیں پھر وہ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کس قدر پیار کرنے والا ہے اور جو لذت انسان خدا سے تعلق رکھ کر حاصل کرتا ہے وہ دنیا کی کسی چیز میں نہیں مل سکتی نہ رشتہ داریوں کے تعلقات میں وہ لذت ہے نہ پھلوں میں وہ لذت ہے نہ اجناس میں وہ لذت ہے نہ پانی میں وہ لذت ہے اور نہ شدید سردی کے موسم میں گرم لحاف میں وہ لذت ہے نہ انتہائی گرمی کے وقت ریفریجریٹر اورا پر کنڈیشنڈ میں وہ لذت ہے غرض دنیا کی کسی چیز میں وہ لذت نہیں جو اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق رکھنے سے انسان حاصل کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ انہیں بھی توفیق دے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق رکھنے والے بن جائیں اور اس مہدی معہود کو پہنچانے لگیں جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا (جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ) محبوب ترین روحانی فرزند تھا ویسا پیار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے نہیں کیا اگر کیا ہوتا تو اسے اپنا سلام بھی بھجواتے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ انہیں یہ بات سمجھ آ جائے۔ہمارے لئے