خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 291 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 291

خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۱ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء تمہیں الہی عذاب سے بچا نہیں سکتیں ابو جہل کو کس نے بچایا ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خلاف جنہوں نے آگ جلائی تھی وہ کہاں ہیں؟ انبیاء کے مخالفین یا ان کی اولا د کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ان کو مٹا دیا۔حضرت نوح علیہ السلام پر تمسخر کرنے والے اور انہیں کا فر کہنے والے کدھر گئے ؟ طوفان کے اندر بہہ کر سمندر کی تہوں میں شاید ان کے ذرے بکھرے ہوئے ہوں مگر ان کا نام ونشان مٹ گیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی مخلوق تو اسے پیاری ہے نا ! ان ظالموں کے جسموں کے ذروں کو شاید ان گھوڑوں میں بھی تبدیل کر دیا ہو جن پر سوار ہو کر مسلمان ایک طرف ایران میں اور دوسری طرف روم کی سلطنت میں گھس گئے۔کون کہ سکتا ہے ہم نے تو نہ ذروں کا پیچھا کیا اور نہ ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ کدھر گئے لیکن اس مادی دنیا کے ذرے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ اپنی شکلیں بدلتے رہتے ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر میرے عذاب سے بچنا چاہتے ہو اگر میری ذلت سے بچنا چاہتے ہو تو تمہیں میرے پاس آنا پڑے گا کوئی اور تمہیں بچانہیں سکتا اور اگر میری رحمت کے تم وارث ہو جاؤ تو دنیا کی طرف تمہیں نگاہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیا تو ایک مرے ہوئے مچھر کے کیڑے سے بھی کم حقیقت رکھتی ہے پھر تمہیں ان کی کیا پرواہ ہے؟ یہ مضمون مختلف آیات میں اپنے Context ( کنٹیکسٹ ) میں بھی ہے اور جو میں نے ان آیات کی ترتیب دی ہے اس سے ایک اور مضمون ابھرتا ہے پہلی آیت میں یہ بتایا تھا کہ عذاب یا رحمت کا پہنچا نا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اس واسطے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اگر تم اس کے عذاب سے بچنا اور اس کی رحمت سے حصہ لینا چاہتے ہو۔سورۂ نساء کی اس دوسری آیات میں (جس کی میں نے تلاوت کی ہے ) یہ کھول کر بتایا گیا ہے کہ اِعْتَصَمُوا بِه اللہ تعالیٰ کے ذریعہ سے شیطانی یلغار، نفس کی یلغار ، دل کے بد خیالات ہیں ان کی یلغار، نفاق کی یلغار ، مخالفت کی یلغار ، انکار کی یلغار اور مخالفانہ منصوبوں کی یلغار اور سب لوگوں کے اکٹھے ہوکر مغلوب کر دینے کی یلغار سے اپنے بچاؤ کا انتظام کرو۔جتنی بھی کوئی تصور میں لاسکتا ہے یا حقیقت میں پیدا ہو سکتی ہیں ان سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کو اپنا ذریعہ بناؤ اس کی