خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 255 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 255

خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۵ خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء Camp ( کیمپ) بنا۔ان حصوں کی طرف فاتحانہ یلغار کا اور دوسری طرف شام بنا۔میں سوچتا ہوں اور طبیعت پر یہ اثر ہے اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طبیعت پر بھی یہی اثر تھا کہ ایک Base ( ہیں ) ہماری افریقہ ہے اور اس وقت ہماری حالت دُنیوی مماثلت کے لحاظ سے وہ ہے جو عراق کے ورلے علاقہ میں مسلمان فوجوں کی تھی جس وقت وہ عرب سے باہر نکلے اور اُنہوں نے آزادی ضمیر کی خاطر ایران جیسی زبردست سلطنت سے ٹکر لی۔وہاں حالت ابھی نہیں آئی کچھ بدل گئے ہیں روم کی حالت ہے کیونکہ روم میں کسری سے لڑائی ہوئی۔ہماری پہلی لڑائی ایسا معلوم ہوتا ہے عیسائی مذہب سے ہو گی جس طرح رومیوں کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی ہوئی۔ویسے تاریخ کے لحاظ سے وہ دوسری لڑائی ہے مسلمانوں سے۔اس زمانہ میں اور ہماری دوسری لڑائی دہریوں سے ہوگی جیسا کہ ایران میں مسلمانوں کی لڑائیاں ہوئیں کیونکہ وہاں آتش پرست تھے۔خدائے واحد دیگا نہ کو ماننے والے نہ تھے۔رومی جو تھے وہ تثلیث کے بھی قائل تھے۔بیچ میں یونیٹیرین بھی تھے۔بہر حال وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نازل شدہ شریعت اور ہدایت کے ماننے والے تھے۔یعنی شریعت ان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دی تھی اور ہدایت ان کو حضرت عیسی علیہ السلام نے دی تھی۔اس وقت جو ابتدائی ہماری جنگ غلبہ اسلام کے سلسلہ میں ہے وہ ہم نے افریقہ میں لڑنی ہے اور افریقہ میں مغربی افریقہ ہمارے لئے Camp ( کیمپ) اور Base (میں) بنے گا اور بن رہا ہے۔اس جنگ کے لئے میں نے مالی اور جانی جہاد کی ندا دی ہے۔آپ کو اس کی طرف بلایا ہے اور میں خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل دیکھتا ہوں کہ جماعت کی بڑی بھاری اکثریت نے انتہائی فدائیت اور جاں نثاری کا ثبوت دیا ہے۔جانی میدان میں بھی اور مالی میدان میں بھی۔ایک مہینہ نہیں گزرا ابھی پہلے سترہ دن میں تو سترہ لاکھ روپیہ (نصرت جہاں ریز روفنڈ میں ہو گیا تھا اور جتنے ٹیچر چاہیے تھے ان سے زیادہ ہمارے پاس آگئے ہیں اور ڈاکٹروں کی کچھ کمی تھی وہ پوری ہوگئی اور مالی لحاظ سے ٹیچر بھی اور دوسرے بھی۔لیکن جس قسم کی مذہبی جنگ جو دلائل اور آسمانی نشانوں کے ساتھ لڑنی اور جیتنی ہے اللہ کے فضل سے اس کی توفیق سے، اس کے لئے۔پتہ نہیں کل کو کتنے آدمیوں کی ضرورت ہو گی۔ڈاکٹروں کی