خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 253
خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۳ خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء اندر ابھی تک ایمان داخل نہیں ہوا۔اس کو یہ آسمانی فوج نظر نہیں آتی۔لیکن وعدہ ہے اور یہ وعدہ پورا ہو رہا ہے۔اب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے افریقہ میں جو کا رنامہ کیا اپنی خلافت میں اور ہم نے وہاں دیکھا۔اگر ہم ان مبلغین کی طرف دیکھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وہاں خلوص کے ساتھ ایثار اور قربانی کی توفیق عطا کی تو وہ نتیجہ نہیں نکل سکتا جو ہمیں نظر آیا۔اس سے ہزاروں حصہ شاید کم نکلتا۔اگر عمل اور اس کے نتیجہ پر نگاہ کی جائے لیکن عمل ایک اور نتیجہ ایک ہزار۔اس کا ٩٩٩ مطلب یہ ہوا کہ نو سو ننانوے نتیجہ پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فوجوں کو نازل کیا اور وہ نتائج ہمیں بتاتے ہیں کہ آسمان سے ملائکہ کا نزول ہوا اور اُنہوں نے اس وعدہ کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا گیا تھا۔غلبہ اسلام کے سامان پیدا کئے۔اس وقت اللہ تعالیٰ خلافت ثالثہ کے ذریعہ دلائل کے ساتھ اور آسمانی نشانوں کے ساتھ غلبہ اسلام کے زیادہ سے زیادہ سامان پیدا کرتا جاتا ہے اور کرتا چلا جائے گا۔جب تک کہ وہ آخری غلبہ اسلام کو حاصل نہیں ہو جائے گا جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے ہیں اور تمام بنی نوع انسان جب تک اسلام میں داخل ہو کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی نہ بن جائیں۔اس غلبہ کے حصول کے لئے جس جہاد کی ضرورت ہے وہ تلوار کا جہاد نہیں کیونکہ اسلام کے خلاف تلوار میان سے نہیں نکالی گئی۔نہ مذہب کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم استعمال کیا جاتا ہے۔دشمن قوم کو تباہ کرنے کے لئے ایٹم بم تو استعمال کیا جاتا ہے اور ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ اس کی ہلاکت کا جسموں پر اثر ہے۔لیکن مذہب کے معاملہ میں ایٹم بم نہ استعمال کیا جاتا ہے نہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ جیسا کہ میں نے یورپ کو کہا آپ بھی بتایا کہ ساری دنیا کے ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم مل کر بھی ایک دل میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔لاکھوں کروڑوں کو تباہ کر سکتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن ایک دل میں وہ تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔دل میں تبدیلی پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوا کرتا ہے۔وہ فضل اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ شامل کر دیا ہے ہم اس کی حمد کرتے ہیں اور ہم حمد نہیں کر سکتے۔ہم عاجز بندے ہیں اتنا انعام ہم پر وہ کر رہا ہے۔بہر حال جو غلبہ اسلام کے سامان پیدا ہو رہے ہیں اور جس طرح ایک وقت میں جب