خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 160

خطبات ناصر جلد سوم 17۔خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء مقرر ہو جائے گی مثلاً پہلے ساٹھ مبلغ ہیں اس سال آٹھ نے مبلغ پیدا ہوئے ہیں تو چار ان کے حصہ میں آئیں گے تو یہ ہو جائے گا کہ پہلے تحریک جدید کے ساٹھ تھے اب چونسٹھ ہو گئے اور اگر پہلے اتی مبلغ ہیں صدر انجمن احمدیہ کے اب ان کو چار ملے تو چورائی ہو گئے لیکن وہ کون کون ہوں گے اس کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا وہ پول کے ہوں گے اور وہیں سے وہ باہر جائیں گے اور کوئی شخص باہر نہیں جائے گا جب تک کم از کم تین سال تک اس نے پاکستان میں کام نہ کیا ہوا اور اس کے حالات اور اس کی ذہنیت کا ہمیں علم نہ ہو۔اور پہلوں کی Screening (سکریننگ ) تو اسی سال ہوگی اور نئے آنے والوں کی سکریننگ تین سال کے بعد ہوگی اور پھر ان میں سے earmark (ایر مارک ) معین کر دیئے جائیں گے یعنی نشان دہی ہو جائے گی کہ یہ یہ مبلغ ایسے ہیں جو بیرونی ممالک میں کام کرنے کے قابل ہیں پھر جتنے ان کے حصے کے ہیں اتنے ان میں سے باہر بھیج دیئے جائیں گے۔ایک اور خرابی یہاں پیدا ہوتی تھی کہ جب وہ واپس آتے تھے تو ان کا کوئی کام نہ ہوتا با ہر وہ مبلغ انچارج ہے اللہ تعالیٰ نے اسے ایک مقام دیا ہے اور عزت دی ہے لیکن یہاں اسے کوئی کام نہیں ہوتا دفتر میں کلرک لگا دیئے جاتے ہیں وہ بے نفس تھے پرواہ نہیں کرتے تھے کلر کی کرتے تھے لیکن اس لحاظ سے ان کی طبیعت پر بہر حال اثر پڑتا تھا ان کو کسی علمی کام میں لگایا جا تا تبلیغ کے میدان میں رکھا جاتا ،نئی کتابیں پڑھائی جاتیں تحقیق کروائی جاتی یہ ان کا کام تھا لیکن چونکہ اس قسم کا تحریک کے پاس کام نہیں ہوتا اس واسطے ان سے وہ ایسے کام کروانے پر مجبور ہوتے تھے اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ ان کو تین سال یہاں کیوں رکھا جائے۔پہلے بھی کچھ باتیں میں نے محسوس کی تھیں اب میں نے ان کو حکم دیا ہے کہ کسی شخص کو تین سال سے زیادہ باہر نہیں رکھنا وہ یہاں آئے جو ہمارے پرانے مبلغ تھے دس دس پندرہ پندرہ سال باہر رہے ان کے لئے عملاً بعض الجھنیں پیدا ہو گئیں مثلاً ایک جرمنی کا مبلغ ہے وہ پانچ سال کا بچہ وہاں لے کر گیا اگر وہ بارہ سال سے وہاں ہے تو سترہ سال کی عمر کا وہ بچہ ہو گیا ساری ابتدائی تعلیم اس نے جرمن زبان میں حاصل کی اب وہ یہاں آئے تو اس کی تعلیم کا حرج ہوتا ہے وہاں رہے تو اس کے ایمان کو نقصان پہنچتا ہے اس لئے عجیب کشمکش پیدا ہوگئی۔میں نے تو ان کو یہی کہا ہے اپنے ایمانوں کی حفاظت کرو