خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 134
خطبات ناصر جلد سوم ۱۳۴ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء ایک Queue ( کیو ) لگا ہوا ہے جب ہماری قوم کا ایک سردار اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو پچھلا ایک قدم آگے بڑھ کر اس کی جگہ لے لیتا ہے اور وہ سردار بن جاتا ہے کیونکہ وہ سرداروں کی قوم ہے۔جماعت احمد یہ بھی سرداروں کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو سرداری کے لئے اور قیادت کے لئے دنیا میں پیدا کیا ہے نظامِ احمدیت میں ہرا سکس ( یعنی سابق ) اچھا ہے اگر اچھا نہیں تو تم جنہیں خدا نے کہا تھا کہ امانتیں اہل لوگوں کو سپرد کیا کرو تم نے کیوں نہ ایسا کیا اور اگر یہ امانت اہل کے سپرد کی تو پھر اس کی عزت اور تعظیم ضروری ہے۔اس طرح جب میں ان کو سمجھا چکا تو پھر میں نے انہیں کہا کہ دوماہ پہلے تمہارا انتخاب ہونا تھا مگر نہیں ہوا کیونکہ میں نے منع کر دیا تھا قانونی طور پر اس وقت جو عہدیدار ہیں وہ میرے ہی مقرر کردہ ہیں کیونکہ الیکشن تو نہیں ہوا اور اب میں ان کو بدلنا چاہتا ہوں اور میں مشورہ کے بعد سارے بدل دوں گا اور ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے کہا یہ تمہارے سابق پریذیڈنٹ ہیں ان کی عزت کرنی ہے پھر جس طرح بچوں کو پیار کرتے ہیں اسی طرح ان کو پیار دیا ایک تحفہ بھی دیا اور اس طرح ان کو خوشی خوشی علیحدہ کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھو ان کے خلاف ایک مقدمہ چل رہا تھا۔انہوں نے یہ نالائقی کی کہ مجھ سے دعا بھی نہیں کروائی شاید اللہ تعالیٰ انہیں کوئی دوسرا نشان دکھا دیتا۔میں اس ملک سے دوسرے ملک چلا گیا اور ابھی پانچ دن نہیں گزرے تھے کہ مجھے اطلاع آئی کہ ان کو ایک سال کی قید ہوگئی ہے اور وہ جیل میں چلے گئے ہیں۔میں بہت خوش ہوا میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس مقدمے کے فیصلے سے پانچ دن پہلے مجھ سے فیصلہ کروایا اور اس فیصلے کو روکے رکھا کہ دنیا یہ نہ کہے کہ جماعت احمدیہ کا پریذیڈیٹ قید میں گیا ہے اب وہ پریذیڈنٹ نہیں پریذیڈنٹ کے عہدے سے ہٹ گیا ہوا ہے اور وہاں کی جماعت نے اس کو محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ کی شان ظاہر ہوئی ہے اور بڑے خوش ہوئے کہ دیکھو حضرت صاحب نے فیصلہ کیا اور پانچ دن کے بعد وہ فیصلہ ہو گیا جو جماعت کی بدنامی کا باعث بن سکتا تھا پس یہ چھوٹی چیزیں اور بڑی چیزیں سب اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں اور میں نے وہاں اللہ تعالیٰ کے اتنے فضلوں کو دیکھا ہے کہ تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شعر کے مطابق ہوا میں اس کے فضلوں کا منادی کیونکہ میں نے اپنی زندگی