خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 122

خطبات ناصر جلد سوم ۱۲۲ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء ہے ہماری غفلت ہے انہوں نے اسے یہی جواب دیا کہ یہ ہمارا قصور ہے کہ ہم نے تمہیں بتایا نہیں۔اس کا یہی مطلب تھا کہ اگر امام مہدی آگئے ہیں تو مجھے اس کا کیوں علم نہیں ہوا ، میرے پاس کوئی بتانے والا کیوں نہیں آیا کہ امام مہدی آگئے ہیں۔پس دنیا یہ پکار پکار کر کہ رہی ہے کہ اگر مہدی معہود مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگئے ہیں تو ہمیں علم کیوں نہیں ہوا دنیا کو بتانا ایک احمدی کا فرض ہے آسمان سے فرشتوں نے آ کر نہیں بتانا اور اسی کی طرف میں انشاء اللہ اس خطبہ میں آپ کو لے کر آؤں گا۔یہ محبت کا پیغام روز روشن کی طرح ان ممالک میں بھی اور جہاں میں نہیں جاسکا وہاں بھی ان پر عیاں ہو چکا ہے وہ اب ماننے لگ گئے ہیں کہ احمدی محبت اور پیار اور ہمدردی اور غم خواری اور مساوات کا پیغام لے کر ہمارے ملکوں میں آئے ہیں۔مجھے بہت سے دوسرے ممالک کے سفراء ملے اور مجھ سے یہ کہنے لگے کہ ہم نے کیا قصور کیا تھا کہ آپ نے اپنے دورہ میں ہمارے ملکوں کو شامل نہیں کیا ؟ میں ان کو کیا کہتا کہ تمہارا قصور ہے یا نہیں بہر حال اس سے پتہ لگتا ہے کہ انہیں احمدیت کی طرف توجہ ہے۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے بہت ساری تبدیلیاں کر رہے ہیں ان تبدیلیوں کے آخری نتائج کو سنبھالنا انسان کا کام ہوتا ہے اور یہ جماعت احمدیہ کا کام ہے۔ان لوگوں میں ایک اور خوبی مجھے یہ نظر آئی کہ وہ صفائی کا بڑا خیال رکھتے ہیں یہاں تو یہ مشہور ہے کہ بڑی گندی اور بد بودار قومیں ہیں اب خدا تعالیٰ کے فضل سے صرف گھانا کے ملک میں منصورہ بیگم کے عورتوں کے مصافحے اور میرے مردوں کے جو مصافحے ہوئے ان کا ۲۵ ہزار سے زائد کا اندازہ ہے۔لیکن مختلف جلسوں میں شمولیت اگر ۳۰،۲۵ ہزار مردوزن کریں تو اس سے صاف طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس وقت وہاں کی ہماری بالغ آبادی دو اور تین لاکھ کے درمیان ہے، بچے اور بچیوں کو چھوڑ کر ، یقیناً اتنی آبادی ہوگی خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی آبادی ہے اور سارے ممالک میں تو ہم نے بہت زیادہ مصافحے کئے ہیں اور میں نے ہزاروں معانقے کئے ہیں اور میرے خیال میں ہزاروں ہی کی تعداد میں بچوں سے پیار کیا ہے اور سارے دورے کے اندر سوائے ایک یا دو کے کسی سے بد بو نہیں آئی ہزاروں میں سے ایک دو کا ہونا محض استثناء