خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 115 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 115

خطبات ناصر جلد سوم ۱۱۵ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء یہ امید رکھی جائے گی کہ جو لوگ مسلمان نہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں وہ بھی اپنی عبادت گاہوں کو آبادرکھیں۔مساوات کا جو نمونہ ہمیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نظر آتا ہے اس کی ایک ہی مثال میں وہاں مختلف موقعوں پر دیتا رہا ہوں اور وہ فتح مکہ کے دن کا واقعہ تھا میں نے انہیں بتایا کہ تمہارے میں سے ایک حبشی غلام ، مکہ کے جو پیرا ماؤنٹ چیف تھے ان کا غلام تھا اور وہ اس کو نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم کیا اور اس کو اسلام کے نور کی شناخت میسر آئی اور وہ مسلمان ہو گیا۔پہلے نفرت اور حقارت تھی اب نفرت اور حقارت کے ساتھ ظلم اور تشدد بھی شروع ہو گیا ان لوگوں نے اس پر انتہائی ظلم کیا کہ آج بھی اس کی یاد میں ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک مسلمان نے اسے خریدا اور آزاد کر دیا پھر وہ مسلمان معاشرہ کا ایک محترم اور معز ز فرد بن گیا۔فتح مکہ کے روز حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جھنڈا تیار کیا اور آپ نے اس جھنڈے کا نام بلال کا جھنڈا رکھا اور اس کو ایک مقام پر گاڑ دیا اور سردارانِ مکہ سے کہا کہ اگر تم امان چاہتے ہو تو اس شخص کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ جس کو تم نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھا کرتے تھے اور جس پر تم بے انتہا ظلم کیا کرتے تھے۔اس طرح پر اس مظلوم بلال کا انتقام لیا ایک حسین انتقام جسے میں انگریزی میں Sweet Revenge ( سویٹ ریوینج ) کہہ دیا کرتا تھا۔یہ میری اپنی اصطلاح ہے لیکن مجھے پسند ہے اب بھی میں دہرا دیتا ہوں یہ حسین اور پیارا اور میٹھا انتقام کہ ہم تمہیں ہلاک نہیں کرنا چاہتے لیکن بدلہ ضرور لیں گے۔بلال کے جھنڈے تلے آجاؤ تا کہ اس بلال کی وجہ سے جس پر ظلم کر کے تم انسان انسان میں فرق کرنا چاہتے تھے اس بلال کو ہم مثال بنادیں فرد اور فرد، انسان اور انسان کی تفریق کو دور کر نے کی۔جس وقت میں نے یہ واقعہ پہلی دفعہ سنایا تو اتنی خوشی کی لہر اس مجمع میں پھیل گئی کہ میرے کانوں نے وہ بھنبھناہٹ سنی جو خوشی کی وجہ سے فضا میں پیدا ہوئی تھی لوگوں نے بڑے جوش کے ساتھ والہانہ طریق پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ان میں غیر بھی تھے، پادری بھی تھے۔ایک موقع پر علاقے