خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 114 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 114

خطبات ناصر جلد سوم ۱۱۴ خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء بھی کئے اور بے وقت بھی کئے ایسے وقت میں بھی کئے جب احساس یہ تھا کہ اس وقت یہاں گرمی میں زیادہ ٹھہر نا ٹھیک نہ ہو اور میں بیہوش ہو جاؤں لیکن جو میں انہیں بتانا چاہتا تھا قول اور فعل سے، وہ میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی تھی کہ بتا دوں۔اکرا ( گھانا ) میں پہلی بار ہماری بڑی مسجد کی بنیاد رکھی جانی تھی۔بنیاد کے رکھے جانے کے موقع پر ہزاروں آدمیوں کے سامنے میں نے اسلام کی یہ تعلیم پیش کی ان میں اکثریت تو احمدیوں کی تھی لیکن میری آواز ریڈیو اور اخبار کے ذریعہ قریباً ہر فرد تک پہنچ جاتی تھی کیونکہ اخباروں نے بہت تعاون کیا اور ریڈیو اور ٹیلیویژن نے بھی بہت تعاون کیا۔مسجد کے متعلق میں نے انہیں بتایا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق اللہ کی مسجد کے دروازے جس کے ہم نگران ہیں ہر اس شخص کے لئے کھلے ہیں جو خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنا چاہے خواہ وہ مسلمان ہو یا نہ ہو اور قرآن کریم نے ساری دنیا میں یہ اعلان کیا ہوا ہے کہ مسجد علامت اور نشان ہے اس بات کا کہ دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے گی اور انہیں مسمار نہیں کیا جائے گا۔مسلمانوں نے اس پر عمل کیا اور دنیا میں ایک نہایت حسین مثال قائم کی۔ضمناً میں یہ بتادوں کہ سپین میں ہمارا ڈرائیور انگلستان کا رہنے والا تھا اور وہ کیتھولک نہیں تھا چنا نچہ ایک موقع پر اس نے یہ کہا کہ ان کیتھولکس نے سپین کی سب مساجد مسمار کر دیں جو دو ایک نمونہ کے طور پر رکھیں وہ آثار قدیمہ کے طور پر ہیں مسجد کے طور پر نہیں اس نے حیران ہوکر پوچھا کہ کیا آپ کے ملک میں کیتھولک چرچ ہیں؟ جب اس کو بتایا گیا تو وہ کہنے لگا کیا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے ان کیتھولکس کو اجازت دی ہو کہ وہ آپ کے ملک میں اور دوسرے اسلامی ممالک میں چرچ بنائیں اور وہاں وہ اپنی عبادت کریں؟ ہم نے اسے سمجھایا کہ اسلام مذہبی آزادی کی تعلیم دیتا ہے اور بنی نوع انسان کے درمیان ایک نہایت حسین معاشرہ قائم کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مسجد کی حفاظت کی جائے اور مسجد کے طفیل اور مسجد کو علامت اور نشان بنا کر دوسری تمام عبادت گاہوں کی حفاظت کی جائے گی۔مسجد میں محض خود آباد ہی نہیں ہوں گی بلکہ غیروں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کا موجب بھی ہوں گی۔ان میں صرف اللہ کا ذکر ہی نہیں کیا جائے گا بلکہ