خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 92
خطبات ناصر جلد سوم ۹۲ خطبہ جمعہ ۱/۳ پریل ۱۹۷۰ء پروگرام تھا پھر بعض وجوہات کی بناء پر چھوڑنا پڑا چنا نچہ مغربی افریقہ سے ایک پرانے بوڑھے احمدی کا مجھے خط آیا کہ ساری عمر یہ حسرت رہی کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زیارت ہو جائے غالباً انہوں نے اس غرض کے لئے رقم بھی جمع کی لیکن ان کو اس کی توفیق نہ ملی پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے اور انہوں نے لکھا کہ میں آپ کی شکل نہیں دیکھ سکا آپ سے مل کر برکت نہیں حاصل کر سکا میں زندہ ہوں آپ کا وصال ہو چکا ہے اب خلافت ثالثہ کے وجود میں امید بندھی تھی کہ یہ موقعہ مل جائے گا آپ سے ملاقات ہو جائے گی لیکن میں اتنا بوڑھا ہوں کہ اب میرے دل میں یہ وسوسہ رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو جو ایک سال کا التوا ہے اس میں میں اس دنیا سے چلا جاؤں اور یہ حسرت میرے دل ہی میں رہے کہ جماعت احمد یہ کے امام کی زیارت کرسکوں۔پس اس قسم کی تڑپ ان بھائیوں کے دل میں ہے اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ محبت سے اور فراست اور پیار سے اور ان کی ضرورتوں کے سمجھنے اور ان کے مطابق ان کے ساتھ سلوک کرنے سے ان کی پیاس کو بجھا سکوں اور خدا تعالیٰ ان کے لئے سیری کے سامان پیدا کر دے۔تا کہ وہ بشاشت کے ساتھ ہمارے کندھے سے کندھا ملا ئیں۔اسلام کی فتح کے دن کی طرف ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے بڑھتے چلے جائیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر کچھ ہو نہیں سکتا ہم اسی کے در کے بھکاری ہیں اور ہم اسی کے حضور جھکتے ہیں اسی پر ہمارا تو گل ہے دنیا کا کوئی سہارا نہ ہمارے پاس ہے نہ دنیا کے کسی سہارے کی ہمیں خواہش ہے اگر وہی ایک ہمارا پیارا سہارا بن جائے تو ہمیں سب کچھ مل گیا سارے سہارے ہم نے پالئے پس اسی کے سہارے اور اسی پر توکل کرتے ہوئے اس یقین کے ساتھ میں اس سفر پر جارہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ اسلام کے غلبہ کے دن جلد سے جلد آجائیں اور عاجزانہ طور پر جن صحیح اور سچی اور سیدھی راہوں کا میں متلاشی ہوں اللہ تعالیٰ ان راہوں کو میرے لئے بھی اور خدا کرے آپ کے لئے بھی منور کر دے اور کامیابی عطا کرے اور خیریت کے ساتھ آپ یہاں رہیں اور خیریت کے ساتھ ہم وہاں سے واپس آئیں اور ان لوگوں کے پیار اور ان کے اخلاص سے اپنے