خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 83

خطبات ناصر جلد سوم ۸۳ خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۷۰ء انتہاء کو پہنچ گئی۔یہاں تو فرمایا کہ تدبیر کرو جو اہم امور ہیں اُمت مسلمہ کے استحکام کے لئے اور حمکین دین کے لئے اور اصلاح انسانیت کے لئے اور تبلیغ واشاعت کے لئے بڑے امور ہیں تم پہلے تو ایک ایسی قوم تیار کرو کہ جو Nectar (نیکٹر ) پیدا کر سکے یعنی بعض دفعہ ویسے تو اللہ تعالیٰ نے ہر پھول میں Nectar (نیکٹر ) یعنی وہ چیز پیدا کی ہے جو شہد کا ایک حصہ بن جاتی ہے لیکن بعض دفعہ ایسا حادثہ ہوتا ہے کہ پھول نظر آتا ہے لیکن وہ حصہ غائب ہوتا ہے کوئی بیماری ایسی بھی آجاتی ہے پس اگر چہ وہ پھول ہے اور عام پھول میں Nectar (نیکٹر ) بھی ہے جو شہد کا جزو بھی ہے لیکن اس حادثہ کی وجہ سے شہد نہیں بن سکتا اس لئے فرمایا کہ امت مسلمہ کو یا جماعت مومنین کو ایسا بناؤ کہ وہ صاحب الرائے ہوں اور ایسے ہوں کہ جن سے شہد کا ایک جز وNectar (نیکٹر ) جو ہے یا رائے کی اصابت جو ہے وہ ان سے حاصل کی جاسکے اور ان کا نفس بیچ میں نہ آئے۔اب جو پھول ہے اس کا نفس بیچ میں نہیں آتا کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ بیچارے پھول نے اپنا نچوڑ شہد کی مکھی کے حضور پیش کر دیا اور آپ وہاں کھڑا ہے تو اس کا نفس تو بیچ میں نہیں آیا اس نے تو اپنے نفس کی بہترین چیز تھی اس کو اس کے حضور پیش کر دیا جس کی طرف اللہ تعالیٰ کی وحی تھی یعنی شہد کی مکھی کہ تم نے شفا کے سامان پیدا کرنے ہیں ایک ایسی جماعت بنے جو تقویٰ اور طہارت کی بنیادوں پر اپنی زندگیوں کو گزارنے والی ہو اللہ تعالیٰ سے جن کا تعلق پیدا ہو جن کا دعاؤں پر زور ہو جو واقعہ میں اُمت مسلمہ ہو یعنی ان کا اپنا کچھ بھی باقی نہ رہے اپنا سب کچھ اپنا وجود بھی اپنا ذہن بھی اپنی فکر بھی اپنی ساری قوتیں اور طاقتیں اور زندگی اور موت سب خدا کے حضور پیش کر دیں۔یہی اسلام ہے اس کے بغیر تو کوئی اسلام نہیں ہے۔غرض فرما یا عفو اور استغفار کے ذریعہ ایک ایسی جماعت بناؤ جو صاحب الرائے ہو مغلوب الغضب نہ ہو دھیمی ہو فدائی ہو مشورہ دیتے وقت یہ نہ سوچے کہ پھر اس کے بعد ہم پر کتنی ذمہ داریاں عاید ہو جائیں گی مشورہ دیتے وقت صرف یہ سوچے کہ آج اسلام کی زندگی کی بقاء اور احیاء اور اشاعت اور اس کے استحکام کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ہمیں پیش کر دینی چاہئیں خواہ ہم بھو کے رہیں یا ہمارے بچے بھوکے رہیں یا ان کو کھانے کے لئے کچھ ملے۔خواہ ہم