خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 78

خطبات ناصر جلد سوم LA خطبہ جمعہ ۲۷ / مارچ ۱۹۷۰ء وہاں ہزاروں لاکھوں دروازے اس کی رحمت کے ان پر کھلیں۔ایک آیت کا کچھ حصہ اور ایک پوری آیت میں نے اس وقت تلاوت کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فاعْفُ عَنْهُمُ تو ان سے در گزر کر۔عفو کے معنی یہ ہیں کہ ایسا برتاؤ کرنا ایسا سامان پیدا کرنا کہ جو کمزوریوں اور غفلتوں کے بدنتائج ہوں ان سے وہ شخص جس سے درگذر کیا جائے محفوظ رہے محض یہ معنے نہیں ہیں کہ معاف کر دیا بلکہ اس کے اندر یہ معنے بھی آجاتے ہیں کہ اس رنگ میں معاف کیا کہ اگلے کی اصلاح ہو گئی۔محض معافی جو ہماری زبان میں معافی کہلاتی ہے عربی زبان میں عفو کے محض یہ معنے نہیں ہیں بلکہ عفو کے معنوں کے اندر یہ بات بھی آتی ہے کہ ایسے رنگ میں درگزر کیا جائے کہ اس شخص کی اصلاح ہو جائے اور توبہ کی اسے توفیق ملے کیونکہ تو بہ ہی ایک ایسا دروازہ ہے جس سے انسان پچھلے گناہوں کے عذاب اور مضرتوں سے بچتا ہے۔پس عفو کے یہ معنے ہوئے کہ ایسے رنگ میں معاف کیا جائے کہ اصلاح ہو اور توبہ کی توفیق ملے اور جوغلطیاں ہو چکی ہیں ان کے بدنتائج سے وہ شخص محفوظ ہو جائے۔اسی مصدر سے عَافَاهُ سے دور بھی نکلا ہے جس کے معنے ہیں رَفَعَ عَنْهُ كُلَّ سُوءٍ ، یعنی ہر قسم کی تکلیف اور دکھ کو اس سے کر دیا۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے غلام نائبین کو یہ حکم دیا ہے کہ مومنوں کی جماعت سے اس طرح کا سلوک کیا جائے کہ در گذر بھی ہو اور اصلاح بھی ہو اور بدنتائج سے ان کی حفاظت بھی ہو۔دوسرے فرمایا وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اس کے معنی لغت کے لحاظ سے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کی کمزوریوں اور غفلتوں اور گناہوں کے بدنتائج اور عذاب سے ان کی حفاظت کرے یعنی خود بھی یہ کوشش کرو کہ جو غفلتیں ہوگئی ہیں ان کے بدنتائج سے وہ محفوظ ہو جائیں اور اپنی کوشش پر ہی بھروسہ نہیں کرنا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اس سے یہ بھی استدعا کرنی ہے کہ مومنوں کی جماعت اگر بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں باوجود مخلص اور فدائی ہونے کے غفلتیں کر جائیں تو اے خدا! تو ان کی مدد کو آ اور ان کی کمزوریوں گنا ہوں اور غفلتوں کو اپنی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ لے اور ایسے سامان پیدا کر دے کہ ان کی اصلاح احوال ہو جائے۔