خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 75 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 75

خطبات ناصر جلد سوم ۷۵ خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء یہ بات اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنتی ہے پس انسان کے اوپر اس کے جذبات کا اتنا خیال رکھنے کی وجہ سے کتنا بڑا احسان کیا گیا ہے۔اور چوتھی بات جو اس وقت میں مختصر بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ایک تو انسانی جذبات کا خیال رکھا گیا ہے۔دوسرے یہ کہ جو جذبات شنیعہ بعض لوگوں میں پیدا ہو جاتے ہیں ان کی یلغار سے انسان کو محفوظ رکھا۔یہ ایک بات ہے جو اپنی جگہ پر ہے (اور بہت ساری باتیں ہیں لیکن میں اختصار کے پیش نظر بہت سی باتوں کو چھوڑتا ہوں کافی دیر ہوگئی ہے ) اور ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ انسانیت زندہ باد کا نعرہ بھی عارفانہ طور پر ہمارے سوا اور کوئی نہیں لگا سکتا۔جوشخص حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس محسنانہ شان کی معرفت رکھتا ہو وہی کھڑے ہو کر دوسرے انسان کو مخاطب کر کے یہ کہہ سکتا ہے کہ انسانیت زندہ باد۔پس ان دونعروں کی طرف میں اس وقت جماعت کو متوجہ کرتا ہوں اشتراکیت کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ انسانیت زندہ باد کا نعرہ لگائے اور نہ کسی اور ازم کا یہ حق ہے صرف اسلام کا یہ حق ہے صرف مسلمان کا یہ حق ہے۔مسلمانوں میں دو گروہ ہو سکتے ہیں یہ ممکن ہے۔یعنی ایک وہ جن کے منہ سے عارفانہ طور پر یہ نعرہ نکلے اور ایک وہ جن کے منہ سے مجو بانہ طور پر یہ نعرہ نکلے لیکن یہ نعرہ لگانے کا وہی حق دار ہے جس نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو مضبوطی سے پکڑا اور آپ کی محبت میں فنا ہو گیا چونکہ آپ انسانیت کے محسن اعظم ہیں۔اس واسطے اس شخص کا یہ حق ہے کہ وہ دوسرے انسان کو مخاطب ہو کر یہ کہے کہ اے انسان! تیری انسانیت ہمیشہ زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سایہ میں غیر انسانی یلغاروں سے و محفوظ رہے۔پس یہ دو نعرے ہمارے نعرے ہیں۔ختم المرسلین زندہ باد کا نعرہ یا خاتم الانبیاء زندہ باد کا نعرہ یا ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ یہ احمدیت کا نعرہ ہے اور ہم ہی اسے عارفانہ طور پر بلند کر سکتے ہیں اور اسی طرح انسانیت زندہ باد کا نعرہ ہمارا نعرہ ہے اور ہم جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ادنی غلام اور آپ کے مقام کو پہچاننے والے اور اس مقام کے نتیجہ میں اور انسانیت پر آپ نے جو احسان کیا ہے اس کے عرفان کی وجہ سے ہم اس بات کے سزاوار ہیں کہ انسان کو مخاطب کر کے یہ