خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 72 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 72

خطبات ناصر جلد سوم ۷۲ خطبہ جمعہ ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء روسیوں کا اثر و رسوخ ہے یعنی جو ان کے Satellites ( سٹلائٹس ) کہلاتے ہیں۔ان میں انسانی Needs ( نیڈ ز ) ضروریات کچھ اور بن گئی ہیں۔۔غرض یہ کہہ دینا تو کافی نہیں تھا کہ "To each according to his needs" یعنی یہ کہ ہر ایک کی ضرورت پوری ہونی چاہیے اور پھر انسان خاموشی اختیار کر لے۔گویا کہ پتہ ہی نہیں کہ ضرورت ہے کیا چیز۔قرآن کریم نے حقوق انسانی کی اتنی حسین تعریف کی ہے کہ اس کے حسن سے انسانی عقل خیرہ ہو جاتی ہے اور آدمی یہ سمجھتا ہے کہ کہاں جا کر انسانی عقل ٹھہر جاتی ہے اور آگے بڑھنے کے لئے الہامی روشنی کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اللہ رب العالمین ہے اللہ نے ہر فرد واحد کو پیدا کیا اور اس میں تمہیں جتنی قوتیں اور قابلیتیں اور استعداد میں نظر آتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں اور اس نے بحیثیت رب ہونے کے ان تمام قوتوں اور استعدادوں کی نشوونما کے سامان پیدا کئے ہیں۔کم سے کم نشو ونما نہیں بلکہ نشو ونما کے کمال تک پہنچانے کے سامان پیدا کئے ہیں اور ہر شخص جو قوت اور استعداد رکھتا ہے۔اس قوت اور استعداد کو نشوونما کے کمال تک پہنچانے کے لئے جس چیز کی بھی اسے ضرورت ہے وہ اس کا حق ہے اور وہ اسے ملنا چاہیے۔اگر وہ حق اسے نہیں ملتا تو وہ مظلوم ہے اور اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اسے اس کا حق دلوائے مثلاً ایک ہونہار اور ذہین بچہ جو آج آئن سٹائن ( جو ایک مشہور غیر ملکی سائنسدان ہے ) جیسا دماغ رکھتا ہے یا ہمارے ڈاکٹر عبدالسلام جیسا دماغ رکھتا ہے مگر ایک غریب گھرانہ میں پیدا ہو جاتا ہے میں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے کہ بعض غریب گھرانوں میں بڑے ذہین بچے پیدا ہو جاتے ہیں۔کالج کے زمانہ میں بھی ایسے طالب علموں کی جہاں تک ہم سے ہو سکا جہاں تک ہمارے بس میں تھا ہم مدد کیا کرتے تھے اور اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے اگر کوئی ایسا ہونہار طالب علم میرے علم میں آجائے تو میں اسے کہہ دیا کرتا ہوں کہ تم علم میں ترقی کرتے چلے جاؤ۔غیر ملک میں بھی تمہیں بھجوائیں گے۔تمہارا ذہن زیادہ سے زیادہ جو تعلیم حاصل کر سکتا ہے وہ تمہیں دلوائیں گے یہ حق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قائم کر دیا ہے۔۔