خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 68 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 68

خطبات ناصر جلد سوم ۶۸ خطبه جمعه ۲۰ / مارچ ۱۹۷۰ء اس کا تعلق ہے۔ایسی سچی کامل اور ہمہ گیر ہمدردی کسی اور وجود میں تو ہمیں نظر نہیں آتی ویسی ہمدردی تو کجا، میں تو سمجھتا ہوں اس کا ہزارواں حصہ بھی اس کا کروڑواں حصہ بھی ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتا اور اگر کسی شخص کی فضیلت اس کے ان کاموں سے ہو سکتی ہے جن سے بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی ثابت ہو تو ہم گواہی دیتے ہیں اور اس حقیقت کی دنیا میں منادی کرتے ہیں کہ اس صفت میں حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں اور تمام انسانوں سے بڑھ کر بے نظیر انسان ہیں اور بھی بہت سی باتیں ہیں مگر اس وقت میں نے صرف بعض کو لیا ہے اور جماعت کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے ( میں امید رکھتا ہوں کہ آپ اس بات کو سمجھ گئے ہوں گے ) کہ مقام محمدیہ کی جو معرفت ہمیں حاصل ہے آج وہ ہمارے غیر کو حاصل نہیں۔اس میں شک نہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے اس وقت تک کروڑوں اربوں لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہیں اپنے اپنے ظرف کے مطابق یہ معرفت ملی۔ہم نے اس عرفان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند کے ذریعہ حاصل کیا ہے اور پہلوں کی طرح جنہیں یہ عرفان اور معرفت عطا ہوئی تھی حقیقی معنی اور عارفانہ رنگ میں آج اگر کوئی ” خاتم الانبیاء زندہ باد کا نعرہ لگا سکتا ہے تو وہ ہم ہیں۔ہم جب خاتم الانبیاء زنده باد ختم المرسلین زنده باد کا نعرہ لگاتے ہیں تو ہمارا یہ نعرہ عارفانہ نعرہ ہے۔ہم اس حقیقت کو پہچانتے ہیں اور ہمارے دل کی گہرائی ہماری روح کی وسعتوں اور ہمارے جسم کے ذرہ ذرہ سے یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ خاتم الانبیاء زنده باد ختم المرسلین زنده باد لیکن بعض وہ بھی ہو سکتے ہیں جنہوں نے تاریخ کی دوریوں اور ماضی کے دھندلکوں میں افق انسانی پر دور سے ایک چمک تو دیکھی اور اس چمک سے وہ ایک حد تک گھائل بھی ہوئے لیکن ابر رحمت ان پر نہیں برسا۔ماضی کے دھندلکوں میں وہ جو ایک چمک انہیں نظر آئی۔اس پر فریفتہ