خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 52 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 52

خطبات ناصر جلد سوم ۵۲ خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۷۰ء اگر ایسا نہیں تو اس شخص نے احمدیت اور اسلام کی حقیقی روح نہیں حاصل کی اور نہ اسلام کو پہچانا ہے نہ ان مطالبات اور ذمہ داریوں کا احساس اس کے دماغ میں بیدار ہوا ہے جو اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی ہے۔پس ہمارا کام اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہے خواہ وہ تہجد کی نماز ہو خواہ وہ گھٹیالیاں کا انٹر میڈیٹ کالج ہو یا کہیں پرائمری سکول ہو خواہ وہ بچوں کی قاعدہ پڑھانے والی کلاس ہو یا خدام الاحمدیہ یا انصار اللہ کا تربیتی کورس ہو یا یہاں جو قرآن کریم کی کلاس ہوتی ہے وہ ہو چاہے دھوبی کو کپڑے دینے کا کام ہو یا درزی سے کپڑے سلوانے کا کام ہو سب کام ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرنے ہیں اگر ہم درزی کو کپڑے سینے کے لئے اس لئے دیتے ہیں کہ اپنے لباس کی نمائش مطلوب ہے تو خدا تعالیٰ کا غضب تو ہمیں مل سکتا ہے اس کی رضا نہیں مل سکتی لیکن اگر ہم درزی سے کپڑے اس نیت سے سلواتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ میں نے اے مومنو! تمہارے لئے ان چیزوں کو پیدا کیا۔اسراف سے بچتے ہوئے افراط و تفریط ہر دو پہلوؤں سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ان چیزوں کو استعمال کرو میں تمہیں جہاں باطنی حسن دینا چاہتا ہوں وہاں میں تمہیں ظاہری حسن بھی دینا چاہتا ہوں اپنے لباس کو اس نیت سے بنوا ؤ اور پہنو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عطا ہے ہم اس کا شکر ادا کرتے ہوئے یہ لباس بنواتے ہیں۔ایک شخص دھوبی کو کپڑے عادتا دیتا ہے ایک دوسرا شخص ہے جو یہ کہتا ہے کہ میرے رب کو نجاست اور گندگی اور میل کچیل پسند نہیں ہے میں اپنے کپڑوں کو صاف رکھوں گا۔اس نیت کے ساتھ دھوبی کو کپڑے دیتا ہے چنانچہ وہ صاف کپڑے بھی پہن لیتا ہے اور فرشتوں کی دعائیں بھی اسے حاصل ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی اسے مل جاتی ہے۔غرض ایک احمدی کا ہر کام اسلام کے معیار پر پورا اترنا چاہیے ورنہ اس کام کے کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اس کے نتیجہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضا نہیں مل سکتی۔پس جو تعلیمی ادارے ربوہ سے باہر ہیں ان کی بھی بڑی سختی سے نگرانی ہونی چاہیے۔تعلیم کے لحاظ سے بھی اور تربیت کے لحاظ سے بھی ہمارے تعلیمی ادارے اور کسی اور کے تعلیمی ادارے میں نمایاں فرق ہونا چاہیے ورنہ ہم