خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 542 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 542

خطبات ناصر جلد سوم ۵۴۲ خطبہ جمعہ ۱۳ دسمبر ۱۹۷۱ء گئے !! چنانچہ ہر قبیلے کے سردار نے اپنے اپنے قبیلے کے آدمیوں کو بلا یا اور کہا دوڑ و بھاگنے کی کرو۔بچنے کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔دوسرے یہ کہ ان کے دلوں میں رعب ڈالا گیا۔اُن کے دلوں میں آپس میں لڑائی کے سامان پیدا کر دئے گئے۔میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا کیونکہ میں اصولی چیز کی طرف اس وقت توجہ دلانا چاہتا ہوں۔بنیادی طور پر اس واقعہ میں دو اصول بیان ہوئے ہیں اور اُمت مسلمہ کو وہ بھولنے نہیں چاہئیں۔ورنہ ہمارے لئے خیر و برکت کے سامان پیدا نہیں ہو سکتے۔ایک یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ انسانوں میں سے اکثر اپنی کم علمی اور نادانی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً ہوا کو خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے تو مسخر کیا ہے لیکن ہوا اس کے حکم سے باہر ہے۔مثلاً یہ ہوا ہی ہے جس کے استعمال سے ہم ہوائی جہاز چلا رہے ہیں۔پس خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں نے ہوا کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے کیونکہ اگر وہ انسان کے لئے مسخر نہ کی جاتی اور انسان کو یہ عقل نہ دی جاتی کہ وہ اپنے فائدہ کے لئے اسے استعمال کرے تو آج ہوائی جہاز نہ بنتے۔اب بعض انسان یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ میں یہ تو طاقت تھی کہ انسان کے لئے اس نے ہوا کو مسخر کر دیا لیکن اس میں یہ طاقت نہیں کہ خود اس کا حکم ہوا پر جاری ہو۔مگر ایسا سمجھنا بڑی حماقت ہے وہ ہوا جس سے کفار سانس لے رہے تھے اور زندگی اور طاقت حاصل کر رہے تھے اور اس وجہ سے طبیعتوں میں قوت اور بشاشت کا احساس تھا اور سمجھتے تھے کہ وہ اسلام کو مٹا دیں گے۔اسی ہوا کو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جس طرح میں تجھ سے زندگی کے سامان پیدا کرتا ہوں اسی طرح میں تجھ سے آج ہلاکت کے سامان پیدا کروں گا اور پھر خدائے قادر و توانا نے اس ہوا کے ذریعہ کفار کے کیمپ میں ایسی گڑ بڑ مچادی جس کی وجہ سے ان کا وہاں ٹھہر نا مشکل ہو گیا۔پس یہاں ایک تو یہ اصول بتایا گیا ہے کہ تمہارے لئے ان چیزوں کو مسخر تو کیا گیا ہے لیکن تمہاری طاقت سے بے شمار گنا زیادہ وسعت کے ساتھ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے