خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 515 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 515

خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۵ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء اس کی کوشش اور اس کے عمل بوجہ انسان ہونے کے اگر ناقص رہ جائیں گے تب بھی رڈ نہیں کئے جائیں گے۔فَلَا كَفَرَانَ لِسَعیہ میں یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری سعی قابل قبول ہوگی رڈ نہیں کی جائے گی بلکہ فرمایا کہ جو شخص اعمالِ صالحہ بجالائے گا اور وہ مومن ہوگا اور ایمان کے جملہ تقاضوں کو پورا کرے گا تو ” فَلا كُفْرَانَ لِسَعیہ “ اس کو ہم یہ تسلی دیتے ہیں کہ بشری کمزوری کے نتیجہ میں اگر اس کے اعمال میں کوئی کمی اور نقص رہ جائے گا تب بھی اس کے اعمال رڈ نہیں کئے جائیں گے۔وہ قبول کر لئے جائیں گے۔اب یہ کتنا بڑا وعدہ ہے جو فَلا يَخَافُ بَخْسا میں انسان کو دیا گیا ہے۔پھر فرمایا:۔وَ أَمَّا مَنْ أَمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاء الْحُسُني “ (الكهف : ٨٩) یعنی جو ایمان لایا اور مناسب حال اعمال بجالا یا اُسے بہترین جزا دی جائے گی۔کسی جگہ فرما یا عشر أمثالها دس گناہ زیادہ دی جائے گی۔اس طرح پھر ظلم کا تو کوئی سوال ہی نہیں رہتا۔رحمت ہی رحمت ہے۔زیادہ سے زیادہ ہی ہے۔انسان کا تھوڑا سا عمل ہوتا ہے اور اُسے بہت بڑی جز امل جاتی ہے۔آپ اجتماعی طور پر دیکھیں کہ جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کی راہ کے مالی میدان میں مجموعی لحاظ سے کیا خرچ کر رہی ہے۔وہیں سے مالی لحاظ سے ہمارا عمل شروع ہوتا ہے۔اس کے لئے ذرائع اور وسائل اکٹھے کئے جاتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں اتنے زبر دست نتائج نکل رہے ہیں کہ میں تو جب سوچتا ہوں تو میری عقل میں یہ بات نہیں آتی کہ جماعت احمد یہ اور غلبہ اسلام کے حق میں اس وقت جو ایک انقلاب بپا ہو رہا ہے، اُسے میں کس طرح اپنی کوششوں کی طرف منسوب کر دوں۔ہر دو میں کوئی نسبت ہی نہیں ہے۔ہماری کوشش بہت تھوڑی سی ہوتی ہے لیکن نتائج بڑے زبر دست نکل رہے ہیں اسی لئے میں آپ کو بار بار توجہ دلا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کیا کریں کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے وہی اس کی مزید رحمتوں کا مستحق بنتا ہے۔پس لا يَخَافُ بَخْسًا کی رو سے بہترین جزا ملے گی۔عمل رد نہیں کئے جائیں گے ذرا ظلم نہیں