خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 510
خطبات ناصر جلد سوم ۵۱۰ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۱ء یوں کہنا چاہیے کہ اسلامی محاورہ میں، کیونکہ عربی زبان پر قرآن کریم کی زبان کا بڑا اثر ہوا ہے گو وہ پہلے بھی بڑی اچھی اور بہترین زبان تھی لیکن قرآن کریم کی وحی کی عربی نے عربی زبان پر بڑا اثر کیا ہے۔یہاں تک کہ ایک دفعہ جب ہم مصر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔گاڑی میں سفر کرتے ہوئے ایک نوجوان ہم سفر ہر بات میں قرآن کریم کی آیات ک کوئی نہ کوئی ٹکڑا استعمال کرتا تھا چنانچہ میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ یہ نوجوان قرآن کریم سے بڑی محبت رکھتا ہے اس لئے اسے قرآن کریم از بر ہے۔خیر ہم باتیں کرتے رہے۔کوئی گھنٹے دو گھنٹے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ عیسائی ہے۔میں نے اُسے کہا کہ تم عیسائی ہو مگر قرآن کریم کی آیات کے فقرے کے فقرے استعمال کرتے ہو۔وہ کہنے لگا۔میں عیسائی تو ہوں لیکن قرآن کریم کی عربی سے ہم بیچ نہیں سکتے۔یہ ہمارے ذہنوں اور زبان پر بڑا اثر کرتی ہے۔پس قرآن کریم کی عربی یا قرآنِ کریم کی اصطلاح میں امام راغب کے نزدیک ایمان کے کبھی یہ معنے ہوتے ہیں کہ زبان سے اس بات کا اقرار کیا جائے یعنی آدمی یہ کہے کہ میں شریعت محمدیہ کو قبول کرتا ہوں اور اُس اللہ پر ایمان لاتا ہوں جسے قرآن کریم اور اسلام نے پیش کیا ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زبان سے اقرار کرتا ہوں۔ایسا آدمی مومن ہو جاتا ہے۔اس آیت کے پہلے فقرے میں ایمان کا لفظ اسی معنے میں استعمال ہوا ہے کہ ہم نے اس شریعت اور ہدایت کو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو رہی ہے اس کو سنا اور اُس پر ایمان لے آئے۔اس آیت کے دوسرے ٹکڑے میں ایمان کا لفظ ایک اور معنے میں استعمال ہوا ہے اور وہ اس معنے میں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندے کی مدح کرتا ہے یعنی اس کی صفت بیان کرتا ہے اور کبھی اس کو اس بات پر جوش دلاتا ہے کہ تمہیں ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے اور اس معنے میں ایمان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زبان سے اقرار کرنا اور دل سے (اپنے اقرار کے مطابق ) شریعت محمدیہ یعنی اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقتا وہی سمجھنا جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور جس کا زبان سے اقرار کیا گیا ہے اور یہ دل سے سمجھنا یعنی یہ نہ ہو کہ زبان پر کچھ ہوا اور دل میں کچھ اور ہو اور پھر بے عمل نہیں رہنا کیونکہ انسان کے سارے اعضاء پر اسلامی شریعت حاوی