خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 480
خطبات ناصر جلد سوم ۴۸۰ خطبہ جمعہ ۱۵/اکتوبر ۱۹۷۱ء ہی جنگ لڑی گئی ) ایرانی اپنے پیچھے چالیس اور پچاس ہزار کے درمیان لاشیں چھوڑ کر دوڑے ہیں اور حال یہ ہے کہ وہ چودہ ہزار کے مقابلے پر آئے تھے۔آپ ان واقعات پر جتنا زیادہ غور کریں اور ان کا علم حاصل کریں اتنا ہی زیادہ آپ کو پتہ لگے گا کہ ایک عظیم احسان تھا جو اللہ تعالیٰ اس وقت اُمّت مسلمہ پر کر رہا تھا اور یہ سب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور احترام کے قیام کے لئے تھا۔آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں چودہ ہزار مسلمانوں کی یہ جمیعت جو ایرانیوں سے نبرد آزما تھی (یا جو دوسری جگہوں پر برسر پیکار تھے وہ بھی مستثنی نہیں ) یہ ہمیں انسان نہیں نظر آتے بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اور مخلوق تھی جو اس دنیا میں پیدا کی گئی تھی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ آج میں ویسا ہی فضل تم پر کرنا چاہتا ہوں لیکن اگر ان فضلوں کو حاصل کرنا ہے تو تمہیں بھی ویسی ہی مخلوق بننا پڑے گا۔محض وہی جنگ جس کا مقصد تلوار کے زور سے کسی کے عقائد بدلنے کی کوشش ناکام بنانا ہو اسلامی جنگ اور ثواب کا موجب نہیں ہے بلکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا جاتا ہے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ بھی شہید کا درجہ رکھتا ہے۔مَنْ قُتِلَ دُونَ عِزّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ جواپنی عزت کی حفاظت کی خاطر جان دیتا ہے خدا تعالیٰ اس کو بھی شہید کا ثواب دے گا اور مَنْ قُتِلَ دُونَ نَفْسِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ جو اپنے نفس کی حفاظت کے لئے جان دیتا ہے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ بھی شہید ہے۔جیسا کہ ہمارے پریذیڈنٹ جنرل محمد یحیی خان صاحب نے اپنی ۱۲؎ کی تقریر میں کہا ہے بھارتی فوجیں ہماری سرحدوں پر جمع ہیں اور کسی وقت حملہ ہوسکتا ہے۔ان حالات میں انہوں نے قوم کو نصیحت کی ، انہوں نے قوم سے کچھ امیدیں وابستہ کی ہیں اس نصیحت پر ہم نے عمل کرنا له ۱۲ اکتو برا۱۹۷ء۔(ناشر)