خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 37 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 37

خطبات ناصر جلد سوم ۳۷ خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۷۰ء محض زبان سے ایمان کا دعوی کرنا کافی نہیں ایمان لانے کے تقاضوں کو پورا کریں خطبه جمعه فرموده ۶ رفروری ۱۹۷۰ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے قرآنِ مجید کی یہ آیات پڑھیں :۔الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَ جَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ b دَرَجَةً عِندَ اللهِ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْفَابِرُونَ - يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ۔وَجَنَّتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمُ - خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا إِنَّ اللَّهَ عِنْدَةٌ أَجْرٌ عَظِيمٌ - (التوبة: ۲۰ تا ۲۲) اس کے بعد فرمایا۔گزشتہ خطبہ میں میں نے بتایا تھا کہ انسانی فطرت میں یہ جوش ودیعت کیا گیا ہے کہ وہ لا متناہی ترقیات کی متلاشی رہے۔کسی ایک جگہ پر ٹھہر جانا اُسے پسند نہیں ہے جب فطرت کا یہ رجحان اور یہ جوش غلط راستہ پر گامزن ہو جاتا ہے مثلاً دنیوی مال اور دولت کا لالچ پیدا ہو جاتا ہے تو اس قسم کا حریص انسان کسی مقام پر بھی ٹھہر نا پسند نہیں کرتا اگر اس کے پاس لاکھ روپیہ ہو جائے تو وہ کروڑ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے اگر سو انسانوں کا خون چوس کر اس نے روپیہ جمع کیا ہو تو اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں ہزار انسانوں کا خون چوسوں اور اپنی دولت میں زیادتی کروں۔بہر حال یہ حرص