خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 476
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۱۵/اکتوبر ۱۹۷۱ء تھی ، ساری دنیا ہی گھومتی رہتی تھی۔اس سے مجھے خیال آیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہے کہ زمین بڑی تیزی سے گھوم بھی رہی ہے اور ایسے سامان بھی پیدا کر دیئے گئے ہیں کہ انسان کو اس کا احساس نہ ہو۔ہمارا رب بڑا افضل کرنے والا ہے۔پس جب بیماری کی وجہ سے دورانِ سر کی تکلیف شدت اختیار کرتی تو اس سے بڑی تکلیف ہوتی تھی۔شکر جو خون میں زیادہ ہوئی وہ بھی فکر کی بات تھی کیونکہ اس کے نتیجہ میں پھر دوسرے عوارض پیدا ہو جاتے ہیں مثلاً آنکھوں پر اثر پڑتا ہے، دل پر اثر پڑتا ہے اور مختلف جوارح پر اس کا اثر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ اس قسم کے بداثرات پیدا نہیں ہوئے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ۔میں نے اسلام آباد میں ایک ماہر ڈاکٹر کو دکھایا تو وہ کہنے لگے کہ خون میں شکر کی زیادتی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ آپ بیمار تو نہیں لیکن بیماری کے کنارے پر کھڑے ہوئے ہیں۔( یہی کمانڈ رشوکت نے کراچی میں بتایا تھا ) اور جب بھی آپ کی ورزش ٹچھٹ جائے گی آپ کے خون میں شکر آ جائے گی کیونکہ ورزش کے نتیجہ میں شکر جل جاتی ہے۔اس واسطے ورزش کا انتظام ہونا چاہیے۔یہ شکر خود بخو د غائب ہو جائے گی۔چنانچہ اُس کے مشورہ سے کراچی سے ایک ایسا سائیکل منگوایا گیا ، جو ایک انچ چلتا بھی نہیں اور کئی میل کی ورزش بھی کروا دیتا ہے یعنی یہ ورزش کرنے والا سائیکل ہے اس کے پہیے زمین سے اُٹھائے ہوئے ہیں ، آدمی چلاتا ہے تو ورزش ہو جاتی ہے۔میں نے تھوڑے دن ہی یہ ورزش کی ہے اس سے ایک تو یہ اچھا اثر ہوا کہ جو ( لمبا عرصہ لیٹے رہنے کی وجہ سے جسم کا گوشت بالکل ڈھیلا اور نرم پڑ گیا تھا اس میں پھر سختی آگئی اور جان پیدا ہو گئی ہے۔دوسرے میرا احساس یہ ہے ابھی ٹیسٹ تو غالباً کل صبح ہوگا) کہ خون میں شکر کی جو زیادتی تھی وہ زیادتی نہیں رہی بلکہ ( یہ نظام) اپنی اصلی حالت پر آ گیا ہے کیونکہ اس بیماری کی بعض علامتیں ہیں مثلاً سر کے پچھلے حصہ میں اگر شکر زیادہ ہو تو ہلکی سی درد اور گھبراہٹ کا ایک احساس ہوتا ہے یا پیشاب کی کثرت ہے اور پیشاب اپنے پیچھے جلن چھوڑ جاتا ہے مگر اب تو بالکل زمانہ صحت والا احساس پیدا ہو چکا ہے۔کل یا پیر کی صبح کو پھر خون کا ٹیسٹ ہوگا۔خدا کرے ٹھیک ہی نکلے۔ویسے احساس کے لحاظ سے تو وہ ٹھیک ہے۔