خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 32

خطبات ناصر جلد سوم ۳۲ خطبہ جمعہ ۲۳ / جنوری ۱۹۷۰ء وجہ سے طبیعت میں بڑی بے چینی پیدا ہوتی ہے اور ضعف دماغ ہو جاتا ہے کیونکہ دماغ کو با قاعدگی سے ایک جیسا خون نہیں ملتا اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت حد تک آرام ہے۔ضعف کچھ باقی ہے اللہ تعالیٰ فضل کرے آپ دوست دعا کریں یہ تکلیف بھی جاتی رہے۔بیماری میں ایک اور تکلیف شروع ہو جاتی ہے اور وہ یہ احساس ہوتا ہے کہ کام پیچھے پڑ رہے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ اگر کام نہ کروں تو چوبیس گھنٹے کے بعد بے چینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔بہر حال کام تو اتنا ہی ہو سکتا ہے جتنے کی اللہ تعالیٰ توفیق دے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مجھے بھی اور آپ کو بھی زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی توفیق بخشے تا کہ ہم سب اس کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی خواہش انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے انسان کا نفس کسی ایک جگہ ٹھہر نا پسند نہیں کرتا بلکہ ہر ترقی کے بعد مزید ترقیات حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور ہر بلندی کے حصول کے بعد مزید رفعتوں تک پہنچنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔یہ خواہش اگر صحیح راستے پر گامزن رہے تو اس سے بہتر اور کوئی خواہش نہیں ہوسکتی لیکن اگر یہ خواہش صراط مستقیم سے بھٹک جائے تو پھر اس سے بدتر اور گندی خواہش اور کوئی نہیں ہوسکتی۔آپ دیکھتے ہیں کہ اس دنیا میں بہت سے لوگوں کے دل میں جب اقتدار کی ہوس پیدا ہوتی ہے تو وہ اپنے ماحول میں ہر طریقے سے ظلم کی سب راہوں کو اختیار کر کے اپنا اقتدار اور تسلط جمانا چاہتے ہیں جب انہیں کچھ اقتدار حاصل ہو جاتا ہے تو انہیں مزید اقتدار کی ہوس پیدا ہو جاتی ہے اور اس طرح ظلم میں زیادتی ہوتی رہتی ہے اس طرح دنیا دار لوگوں کے دلوں میں جب دولت کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو ان کی یہ بھٹکی ہوئی خواہش ہر بری اور نا پاک راہ کو تلاش کرتی ہے اور ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ سے دُور سے دُور تر لے جاتی ہے۔یہ سب گندگی کے دروازے ہیں جنہیں ہم رشوت کا دروازہ، چوری کا دروازہ ، دھوکہ بازی کا دروازہ ، جعل سازی کا دروازہ ، اور احتکار مال کو نا جائز طور پر روکے رکھنے ) وغیرہ وغیرہ کا دروازہ کہتے ہیں یہ سب دروازے اسی گندی ( خواہش کے نتیجہ میں کھلتے ہیں۔