خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 423 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 423

خطبات ناصر جلد سوم ۴۲۳ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے بلکہ قرآن کریم کی یہ تعلیم عملاً انسانی زندگیوں کو بدل دینے والی اور قوموں کی زندگی میں ایک انقلاب عظیم بپا کرنے والی ہے۔یہ تعلیم محض خیالی یا عقلی نہیں ہے۔دنیا نے اس کے عملی مظاہرے دیکھے ہیں چنانچہ اسلام کی اس تعلیم کے نتیجہ میں ہر جگہ برابری اور مساوات آگئی۔عرب اور عجم کے درمیان کوئی فرق نہ رہا۔گورے اور کالے کے درمیان کوئی فرق نہ رہا۔امیر اور غریب کا امتیاز مٹ گیا۔انسان اب بھی جب مسلمان کہلانے والوں کے اندر یہ تفریق دیکھتا ہے۔تو حیران رہ جاتا ہے۔یوں تو سارے خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لانے والے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے کا دعوی کرنے والے ہیں مگر ان میں سے ایک باعزت بن گیا اور دوسرا ذلیل ہو گیا جو آدمی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن سے چمٹا ہوا ہے وہ ذلیل کیسے ہو گیا ؟ پس یہ دو عظیم نعرے تھے۔ایک توحید کے قیام کا نعرہ اور دوسرا حقوق انسانی کے قیام کا نعرہ۔حقوق انسانی کے قیام کے نعرہ میں بنیادی طور پر دو چیزیں تھیں ایک مساواتِ انسانی اور شرف انسانی کا نعرہ اور اعلان اور دوسرے انسانی قومی اور استعداد کی کامل نشو و نما کا نعرہ اور اسلام نےمسلمانوں کو حقوق انسانی کے قیام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں قیادت بخشی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں سمجھ عطا کی ہے اور ہمارے لئے ایک کامل اور مکمل تعلیم اتاری ہے اور ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اس تعلیم کے ذریعے ساری دنیا میں ایک Revolution ( ر یوولوشن ) یعنی ایک انقلاب بپا کر دو۔قوموں کی زندگی ان کے خیالات اور فکر و تدبر کی کا یا پلٹ کر رکھ دو اور اس طرح ثابت کر دو کہ انسان انسان برابر ہیں۔یہی پیغام میں افریقہ کے دورے میں لوگوں کو دے کر آیا ہوں کہ اب وہ دن چڑھ گیا ہے کہ آئندہ کوئی انسان تمہارے ساتھ نفرت اور حقارت کا سلوک نہیں کرے گا اسلام کی یہ اتنی عظیم تعلیم تھی اور اس کے خلاف اتنے عظیم منصوبے باندھے گئے چنانچہ جب ہم ان منصوبوں کی تفصیل میں جاتے ہیں تو ہمیں ان کی عجیب شکلیں نظر آتی ہیں۔اس سلسلہ میں بھی میں مختصراً کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا کہ یہ جو اسلام نے مساواتِ انسانی اور شرف انسانی