خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 419
خطبات ناصر جلد سوم ۴۱۹ خطبہ جمعہ ۱۱/ دسمبر ۱۹۷۰ء کر کے وہ یہ کہہ رہے ہوں گے کہ انسان ، انسان میں کوئی فرق نہیں ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان کسی ماں نے نہ اب تک جنا اور نہ آئندہ جن سکتی ہے ایسا عظیم الشان وجود جو اللہ تعالیٰ کا حقیقی محبوب ہے اور باقی ہر ایک نے اسی کے طفیل خدا کی محبت کو پایا ہے اس کی زبان سے یہ عظیم کلمہ نکلوا دیا کہ میں تمہارے جیسا انسان اور تم میرے جیسے انسان ہو۔جب یہ مساوات اور برابری کا عظیم الشان اعلان ہوا تو مکہ کے سرداروں نے کہا کہ یہ کہاں کی آواز اٹھی ؟ کیا ہم اور ہمارے غلام برا بر ہیں؟ کیا ہمارا قبیلہ جو خانہ کعبہ کا محافظ ہے یہ اور عرب کے دوسرے قبائل برابر ہو گئے ؟ کیا عرب کے رہنے والے اور حبشہ اور دوسرے افریقی ممالک کے رہنے والے برابر ہو گئے ؟ یہ کیسی آواز ہے؟ ہم تو اسے نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ اسے برداشت کر سکتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اس پاک اور بلند اور عظیم آواز کے خلاف منصوبے بنانے شروع کر دیئے جن کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی طاقت کے زور سے اپنی برتری کو قائم رکھیں گے اور مساوات کو قائم نہیں ہونے دیں گے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب کا یہ فرمان ہے کہ اس نے ہر انسان کو پیدا کیا اور اس کے اندر تمہیں جو بھی قوت اور استعداد نظر آتی ہے وہ اس کی پیدا اور عطا کردہ ہے اور فرما یا یہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ ہر فرد واحد کی تمام قوتوں کی نشونما کو کمال تک پہنچایا جائے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے رب العالمین کی حیثیت سے ہر فرد واحد کی تمام قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچانے کے لئے جس مادی اور غیر مادی چیز کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دی ہے۔انسان کی قوتیں اور استعداد میں جسمانی بھی ہوتی ہیں اور اخلاقی اور روحانی بھی ہوتی ہیں۔ان قوتوں اور استعدادوں کی نشوونما کے کمال تک پہنچنے کے وسائل اور ذرائع مادی اور غیر مادی دوحصوں میں منقسم ہوتے ہیں۔جسمانی لحاظ سے مثلاًطیب غذا کی ضرورت ہے اور خالی حلال ہی نہیں کیونکہ حلال میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح کی شان نظر نہیں آئے گی اس لئے نہ صرف حلال بلکہ حلال اور طیب غذا کی ضرورت ہے۔ہر فرد کے جسم کا تقاضا مختلف ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے ہزار قسم کی حلال چیزیں پیدا کی ہیں اور ہزار قسم کی نعمتیں مہیا فرمائی ہیں اور فرمایا کہ میری ان ہزار قسم کی اشیاء اور نعماء میں