خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 382 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 382

خطبات ناصر جلد سوم ۳۸۲ خطبه جمعه ۱۶ اکتوبر ۱۹۷۰ء وسوسہ پیدا کر سکتا تھا کہ یہ نمونہ اتنا بڑا ہے کہ تم وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔خدا تعالیٰ نے فرما یا نہیں تمہاری فطری کمزوریاں ہیں ان کی وجہ سے جو تم سے غلطیاں، کوتاہیاں اور غفلتیں ہوں گی ان سے گھبرانا نہیں کیونکہ ” يَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے آپ کا مظہر بننے کی کوشش کرو تمہاری خطائیں ، گناہ ، غفلتیں ، کمزوریاں معاف کر دی جائیں گی۔یہ ہمیں امید دلائی ہے اور ہمارے دل اور ہماری روح کو امید سے بھر دیا ہے اور یہاں ہمیں یہ حکم دیا کہ خالی یہ کہنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے کافی نہیں محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو مظہر اتم صفات باری سمجھتے ہوئے آپ سے انتہائی محبت کی جائے اور محبت کے نتیجہ میں آپ کی اتباع کی جائے یہاں اتباع کا لفظ ہے جو نتیجہ ہے محبت کا، اس سے پتہ لگتا ہے کہ اصل حکم یہ ہے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو اور جو کسی سے محبت کرتا ہے وہ اس کی اتباع کر رہا ہوتا ہے اور اس کے قدم چومتا ہے، اس کے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے لگاتا ہے، اس کے پاؤں کی خاک کو اپنا سرمہ سمجھتا ہے ، وہ اپنی جان اس پر فدا کر رہا ہوتا ہے۔اپنی استعداد کے مطابق وہ کامل اتباع کر رہا ہوتا ہے، تو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرو وہ میرا محبوب ہے اس کی اتباع کرو تو میری محبت مل جائے گی اور شیطان تمہارے دل میں یہ وسوسہ نہ ڈالے کہ تم کمزور اور عاجز بندے ہو ہزار غلطیاں کرتے ہو، ہزار کو تا ہیاں تم سے سرزد ہو جاتی ہیں اس کی فکر نہ کرو ہمارا تم سے وعدہ ہے کہ اگر تم خلوص نیت کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہو کر آپ کی اتباع کرو گے تو تمہاری کمزوریوں کے باوجود میں تمہیں اپنا محبوب بنالوں گا۔اللہ تعالیٰ ہماری کمزوریوں کو اپنی مغفرت کی چادر سے ڈھانک دے اور ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس رنگ میں محبت کرنے والا پائے جس رنگ میں وہ انسان سے خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والا ہو۔اللھم آمین۔روزنامه الفضل ربوه ۱۴ ۱٫ پریل ۱۹۷۱ ، صفحه ۳ تا ۶)