خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 27
خطبات ناصر جلد سوم ۲۷ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء ایک فری کوئنسی (FREQUENCY) دے دیں گے اور آپ وہاں سے براڈ کاسٹ کر سکتے ہیں لیکن امریکہ اتنا مہنگا ہے کہ ابتدائی سرمایہ بھی اس کے لئے زیادہ چاہیے اور اس پر روز مزہ کا خرچ بھی بہت زیادہ ہوگا اور اس وقت ساری دنیا میں پھیلی ہوئی اس روحانی جماعت کی مالی حالت ایسی اچھی نہیں کہ ہم ایسا کر سکیں یعنی میدان تو کھلا ہے لیکن ہم وہاں نہیں پہنچ سکتے۔دوسرے نمبر پر افریقہ کے ممالک ہیں نائیجیریا، غانا اور لائبیریا سے بعض دوست یہاں جلسہ سالانہ پر آئے ہوئے تھے غانا والوں سے تو میں نے اس کے متعلق بات نہیں کی لیکن باقی دونوں بھائیوں سے میں نے بات کی تو انہوں نے آپس میں یہ بات شروع کر دی کہ ہمارے ملک میں یہ لگنا چاہیے اور وہاں اجازت مل جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ گو پتہ تو کوشش کرنے کے بعد ہی لگے گا کہ کہاں اس کی اجازت ملتی ہے لیکن ان ممالک میں سے کسی نہ کسی ملک میں اس کی اجازت مل جائے گی اور چونکہ ہماری طرح یہ ملک بھی غریب ہیں اس لئے زیادہ خرچ کی ضرورت نہیں ہوگی شروع میں میرا خیال تھا کہ صرف پروگرام بنا کر اناؤنس کرنے والے ہی ہمیں دس پندرہ چاہئیں پہلے مرحلہ میں چاہیے کہ یورپ اور مشرق وسطی کی زبانوں میں پروگرام نشر کیا جا سکے اسی طرح عرب ممالک اور پھر ٹر کی ، ایران، پاکستان اور ہندوستان سب اس کے احاطہ میں آجائیں گے، انشاء اللہ۔جہاں تک پیسے کا سوال ہے میرے دماغ نے اس کے متعلق اس لئے نہیں سوچا کہ مجھے پتہ ہی نہیں کہ اس کے لئے کتنے پیسے چاہئیں لیکن جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ ” کتنے پیسے چاہئیں“ کے متعلق دریافت کیا جائے تو اس کے متعلق میں نے انتظام کر دیا ہے۔جلسہ پر بعض دوست بیرونی ممالک سے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک دوست کینیڈا سے آئے ہوئے تھے وہ وہاں ٹیلی ویژن میں کام کرتے ہیں میں نے ان کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہاں جا کر فوری طور پر اس کے متعلق ضروری معلومات حاصل کریں۔پاکستان میں اس اسٹیشن کی اجازت نہیں مل سکتی کیونکہ ہمارا قانون ایسا ہے کہ یہاں کسی پرائیویٹ ادارہ کو ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن بعض ممالک ایسے ہیں جن