خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 365 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 365

خطبات ناصر جلد سوم ۳۶۵ خطبه جمعه ۲/اکتوبر ۱۹۷۰ء قریباً تین ہزار کا پانچ پانچ سوروپیہ کا وعدہ کرنا اور اڑھائی ہزار کا دودوسور و پیہ نقد دے دینا بڑی چیز ہے دنیا تو خدا کے نام پر ایک دھیلہ بھی نہیں دیتی۔اصل میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جو اسلام کی خدمت ہورہی ہے وہ صرف احمدی کر رہے ہیں لیکن جماعت کے اندر ایک انقلاب عظیم ( میں اس کے نتائج نہیں بتا رہا) پیدا ہو گیا ہے ان کے اخلاص میں برکت ، مال میں برکت اس کے نتائج میں برکت پیدا کر دی گئی۔کس کس نعمت کا تم شکر ادا کرو گے ایک ہی فضل ایسا ہوتا ہے کہ اگر انسان سچے طور پر سوچے تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ خدا کے ایک فضل کے بعد اگر میں ساری عمر الحمد للہ پڑھتا رہوں تو شکر ادا نہیں کر سکتا۔یہاں تو فضل اتنے ہیں کہ گنے ہی نہیں جاسکتے جو خدا کو نہیں پہچانتے ان پر جو اللہ تعالیٰ فضل نازل کرتا ہے وہ بھی گنے نہیں جاسکتے تو جو اللہ تعالیٰ کو پہچانتے ہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے جماعت میں داخل ہونے کی توفیق دی ہے ان پر جو فضل ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نہ پہچاننے والوں کے مقابلہ میں اتنے ہیں کہ وہ گنے نہیں جاسکتے ہمارا تو دماغ چکرا جاتا ہے جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کتنے فضل ہیں انسانی ذہن کو یہ طاقت ہی نہیں دی گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا احاطہ کر سکے۔یہ سچائی ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا تو جتنا زیادہ سے زیادہ طاقت میں ہے خدا کی حمد کرنا اس کا شکر کرنا، اتنی حمد اور شکر کر دو پھر عاجزی کے ساتھ اپنے ربّ کریم سے کہو کہ تو نے جتنی طاقت ہمیں دی اس کے مطابق جتنا ہم شکر کر چکے وہ ہم تیرے حضور پیش کرتے ہیں تو نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں اور دوں گا اگر ہم میں کمیاں رہ گئیں ہیں کیونکہ ہم تیرے عاجز بندے ہیں تو تو ہمیں معاف کر اور تو ہمارے تھوڑے شکر کو بہت سمجھ اور ہمارے دماغ کو صحتمند کر کیونکہ دماغی بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور ہمارے اخلاص کی کمی کو نظر انداز کر دےاے ہمارے خدا! ایسا سمجھ لے اپنے فضل سے کہ واقعہ میں اپنی طاقتوں کو مد نظر رکھ کر جتنا تیرا شکر ادا کرنا چاہیے تھا اتنا ہم نے شکر ادا کر دیا اور اس کے مطابق ہم سے سلوک کر اور اپنے پیار میں اس کے مطابق زیادتی کرتا چلا جا تو یہ دعائیں کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔نومبر تک چالیس فیصدی کے لحاظ سے موجودہ شکل میں دس لاکھ روپیہ نقد ہو نا چاہیے اس وقت پانچ لاکھ سے او پر ہے لیکن چونکہ کئی دوستوں نے اکٹھی رقم دے دی ہے چالیسواں حصہ نہیں دیا اس واسطے عملاً