خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 345 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 345

خطبات ناصر جلد سوم ۳۴۵ خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء اور دعا کریں تو کشفی طور پر ان کو اس برزخ کے زمانے کے جسموں میں دکھایا جاتا ہے ایک وہ جسم ہوتے ہیں جو دھوئیں سے بنے ہوتے ہیں یعنی جن کے اعمال بد تھے اور ایک وہ جسم جو نور سے بنے ہوئے ہوتے ہیں یعنی جن کے اعمال اچھے تھے۔انسان کا جیسا بھی عمل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ویسا جسم دے دیتا ہے یعنی انسان کا اچھا یا برا عمل ایک جسم میں تبدیل کر دیا جاتا ہے مثلاً جس طرح ہمارا یہ مادی جسم ہے یہ بھی انرجی اور طاقت کی ایک شکل ہے کیونکہ اب مادے کے متعلق سائنس کی جونئی تعریف ہے وہ یہی ہے کہ۔Matter is nothing but another form of energy سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ جو اٹامک انرجی وغیرہ ہے جسے ہم طاقت کہہ سکتے ہیں جس میں مادے کا کوئی حصہ نہیں ہوتا وہی اللہ تعالیٰ کے حکم سے مادے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔پس ہمارے عمل بھی انرجی ہیں ہم کوشش کرتے ہیں جدو جہد کرتے ہیں چاہے ہم بڑے عمل کر رہے ہوں یا اچھے اعمال بجالا رہے ہوں جس طرح دوسری قسم کی انرجی اور طاقت کو اللہ تعالیٰ کا حکم مادے میں تبدیل کر دیتا ہے۔اسی طرح اعمال صالحہ اور اعمال سیئہ جو ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے نور کی شکل کے جسم میں یا دھوئیں کی شکل کے جسم میں بن جاتے ہیں البتہ یہ وہ جسم ہیں جو حشر اجساد سے پہلے انسان کو دیئے جاتے ہیں اگر چہ اس جسم کو جنت کی لذات یا دوزخ کی گرماہٹ ملنے لگ جاتی ہے لیکن پوری طرح جنت یا دوزخ والی کیفیت حاصل نہیں ہوتی ویسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا ارفع و اعلیٰ وجود جو ہے آپ کو تو جنت کی لذات قریباً پوری ملنے لگ جاتی ہیں یعنی ہم کہہ سکتے ہیں اپنی زبان کے محاورے میں ۱۹/۲۰ کا فرق ہوتا ہوگا مگر دوسروں میں زیادہ ہوتا ہے۔بہر حال یہ جسم اس جسم سے مختلف ہے جو حشر کے دن انسان کو ملے گا۔ایک تو ہم نے یہ جسم چھوڑنا ہے پھر اس جسم کو بھی چھوڑنا ہے جو برزخ کے زمانہ میں ملے گا اور پھر ان دوجسموں کے بعد ہمیں وہ جسم ملے گا جو جنت کا جسم ہے۔ہمیں اس بات پر پختہ یقین رکھنا چاہیے۔مرنے کے ساتھ ہی دوسرا جسم مل جاتا ہے اور جزا سزا ملنے لگ جاتی ہے اگر ہم دار آخرت پر اور زندگی کے اس تسلسل پر پختہ یقین رکھتے ہوں تو ( یہ ایک حقیقت ہے کہ ) پھر قربانیاں قربانیاں نہیں رہتیں کیونکہ بہر حال ہمیں انعام ملنا ہے ہماری قربانیاں مقبول ہو جائیں تو مرنے کے ساتھ ہی اس کا