خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 344 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 344

خطبات ناصر جلد سوم ۳۴۴ خطبہ جمعہ ۲۵ ستمبر ۱۹۷۰ء اس دنیا میں بھی اجر پایا لیکن شیطان آکر یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ تم نے قربانی دی اگر یہ زندگی یہیں ختم ہو جاتی ہے اگر کوئی اخروی زندگی نہیں ہے پھر تو تمہیں قربانی دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ تمام نیکیوں اور راستبازیوں کا سر چشمہ ایمان بالآخرۃ ہے اور شیطان کا بڑا حملہ یا بڑا وسوسہ انسان کے خلاف یہ ہے کہ وہ اس کے دل میں آخرت کے متعلق یہ شبہ ڈال دیتا ہے کہ جب اس دنیا میں قربانی دینے کا بعد میں کوئی نتیجہ نکلنا ہے تو پھر قربانی دینا بے سود ہے اور یہ وسوسہ اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب آخرت کے متعلق یقین پختہ نہ ہو یا پختہ نہ رہے تو پھر انسان شبہ میں پڑ جاتا ہے اور قربانی نہیں دے سکتا کیونکہ اس طرح وہ اپنی عقل سے کام لے رہا ہوتا ہے کہ جب اس دنیا میں سب کچھ ختم ہو جانا ہے تو پھر قربانی دینے کا کیا فائدہ ہے؟ دنیا کے انعامات کے وعدہ کے متعلق یہ وعدہ نہیں ہے کہ زید اور بکر کی زندگی میں وہ پورے ہوں گے۔یہ وعدہ تو ہے کہ الہی سلسلہ یقیناً کامیاب ہوگا لیکن یہ وعدہ نہیں ہے کہ زید یا بکر کی زندگی میں کامیاب ہو جائے گا اور زید یا بکر سوچنے لگ جائیں کہ ہماری زندگی میں اس دنیا کی جو خوشخبریاں ہیں پتہ نہیں وہ پوری ہوتی ہیں یا نہیں اس واسطے ہم کیوں قربانی دیں؟ شیطان آکر اس طرح دلوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔غرض تمام نیکیوں اور راستبازیوں کا سرچشمہ ایمان بالآخرۃ ہے یعنی بہت سے وسائل جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں ان میں ایک یہ وسیلہ بھی ہے جب اس بات پر ایمان پختہ ہو کہ اس دنیوی زندگی کے ساتھ ہماری حیات ختم نہیں ہوگی بلکہ یہ تو ایک تسلسل ہے شکلیں بدلتی ہیں تفصیل میں جائے بغیر میں اشارہ کر دیتا ہوں کہ اس کے بعد دو قسم کی زندگیوں کے متعلق ہمیں بتایا گیا ہے اور ان کی بھلائیوں کے حصوں کے لئے ہمیں کہا گیا ہے ایک مرنے کے معابعد کی زندگی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کہ روح کو اس جسم کے علاوہ ایک اور جسم دیا جائے گا اس کی جو تفاصیل ہیں انسانی ذہن ان کا احاطہ نہیں کر سکتا لیکن آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی رو سے انسان کے اعمال اپنے اچھے یا برے جسم کی شکل اختیار کریں گے چنانچہ آپ تجربہ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ اولیاء کے مقبروں پر جائیں