خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 332
خطبات ناصر جلد سوم ۳۳۲ خطبہ جمعہ ۴ ستمبر ۱۹۷۰ء بھی اور نشانات کا بھی ساتویں آسمان پر ہے (جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات دکھایا تھا) دنیا میں سب سے زیادہ چشمے اس پانی کے پھوٹنے ہیں اور وہ پھوٹ رہے ہیں۔ہمارے ہزاروں خاموش مجاہد پیدا ہوئے جس طرح فوجیوں نے Unknown Soldiers کا تہوار بنالیا ہے ہم تو ایسے تہواروں کے قائل نہیں ورنہ وہ بھی بن جاتا۔ہمارے اندر سینکڑوں ہزاروں لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نشانات دیکھتے ہیں لیکن اس نور کے جو ان کے جسموں سے پھوٹ رہا ہوتا ہے کسی اور کو ان کا علم ہی نہیں ہوتا کیونکہ ان کو ظاہر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی جس طرح مثلاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ہزاروں باتیں بتائی گئیں جو بالکل تفصیلی ہیں اور ان میں سے کچھ احادیث نے ، کچھ تاریخ نے محفوظ رکھیں۔چند ایک ایسی ہیں جو آپ نے اپنے صحابہ کو بتا دیں مثلاً صحابی تھے جنہیں آپ نے ایسے منافقین کے نام تک بتا دیئے تھے جنہوں نے امت میں فتنہ پیدا کرنا تھا۔اس میں یہ بھی کمال ہے کہ ایک بات تھی جسے عام نہیں کیا دوسرے یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہ فتنہ کے وقت زندہ رہے گا ورنہ اسے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور پھر وہ زندہ رہا پھر وہ اپنے اپنے وقت کے اوپر اشارے کر جاتے تھے۔پس ایک شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ یہ زندہ رہے گا اسے یہ باتیں بتا دو تا کہ اپنے وقت پر اُمت محمد یہ ان سے فائدہ اٹھائے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہزاروں وحیاں ایسی بھی ہوئیں جن کا آپ نے اظہار نہیں فرمایا کیونکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔بعض ایسی تھیں جس کا احادیث میں ذکر آ گیا بعض ایسی تھیں جو بعض لوگوں کو بتادی گئیں۔مگر قرآن کریم جو کامل اور مکمل شریعت کی وجی تھی وہ محفوظ رہی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ اس کا ایک ایک حرف محفوظ رہے گا۔کتنی زبر دست ضمانت ہے۔( میں نے تو شروع میں کہا تھا کہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا لیکن چلا گیا) اسی الہام کے تسلسل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پیئے گی۔(چشمے سے پانی پیئے گی کا مطلب ہی یہی ہے کہ وہ چشمہ نکل آئے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے محمد ی پانی کا کوئی