خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 312
خطبات ناصر جلد سوم ۳۱۲ خطبه جمعه ۲۸ /اگست ۱۹۷۰ء سہارے کی ہمیں ضرورت ہے۔نِعْمَ الْمَولیٰ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا واحد سہارا ہے۔ابھی چند دن ہوئے ایک سیاست دان میرے پاس ایبٹ آباد میں آئے ان کے لیڈر نے اعلان کیا تھا کہ احمدی تو کافر ہیں ( گوانہوں نے لفظ کا فر تو استعمال نہیں کیا تھا مگر کہا کہ یہ ہماری طرح کے مسلمان نہیں ہیں ) یہ نہ کبھی ہماری پارٹی میں داخل ہوئے نہ اس وقت شامل ہیں اور نہ آئندہ ہو سکتے ہیں نہ کبھی شامل ہوئے اور نہ اس وقت ہیں۔یہ تو ایک جھوٹ تھا جو اسی وقت ان پر کھل گیا کیونکہ بعض احمدی دوست جو سیاسی لحاظ سے ان کے ساتھی تھے وہ کھڑے ہو گئے اور اس سے کہا کہ یہ آپ نے کیا کہہ دیا ہم تو ا ء سے آپ کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور آپ کو پتہ ہے ہم قادیانی ہیں ( یہی لفظ اس نے استعمال کیا تھا) چنانچہ وہ بڑا شرمندہ ہوا اور پھر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گیا لیکن وہ علیحدہ بات ہے یہ دوست جو مجھ سے ملنے آئے تھے ان سے میں نے کہا کہ تمہارے لیڈر نے کہا ہے کہ کوئی احمدی میری پارٹی کا ممبر نہیں ہے اور تم آگئے ہو میرے پاس ووٹ لینے میں وہ بے غیرت احمدی کہاں سے تلاش کروں گا جو تمہارے اس لیڈر کے اعلان کرنے کے بعد تمہیں آکر ووٹ دے دیں گے اور میں نے اسے بتایا کہ مجھے کسی احمدی کو کہنے کی ضرورت نہیں البتہ اسے یہ پتہ لگنا چاہیے کہ تمہارے لیڈر نے یہ کہا ہے پھر وہ آپ ہی فیصلہ کر لے گا اور اس کا فیصلہ یہی ہوگا کیونکہ کوئی احمدی بے غیرت نہیں ہوتا۔میں نے اس سے یہ بھی کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے احمدیوں کے کافر ہونے کا اعلان کر دیا پتہ نہیں احمدیوں کو کیا ہو جائے گا کیونکہ احمدی بے سہارا ہیں ان کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کر لو میں نے کہا یہ درست ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو اور ہم بھی یہ سمجھتے ہیں اور اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ کوئی دنیوی سہارا ہمارے پاس نہیں ہے ہم نے زید یا بکر کا دامن نہیں پکڑا ہوا، ہم نے دولت کو بت نہیں بنایا، نہ کثرت کی ہم پرستش کرتے ہیں ، نہ طاقت ہمارے سامنے کسی دیویا شیطان کی شکل میں آتی ہے، ہمارے پاس طاقت نہیں ہے، ہمارے پاس دولت نہیں ہے، ہمارے پاس سیاسی اقتدار نہیں ہے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔دنیا دار دنیا کے جن سہاروں کو سہارا سمجھتا ہے ہمارے پاس کوئی بھی ایسا سہارا نہیں یہ ایک حقیقت ہے اس کا ہم انکار نہیں