خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 308 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 308

خطبات ناصر جلد سوم ۳۰۸ خطبه جمعه ۲۸ راگست ۱۹۷۰ء ا حالت ہے۔آج ان کے مفکرین دنیا میں تباہی مچانے اور دنیا کی آپس کی حقارتوں کو اور بھی زیادہ شدید بنانے کے لئے کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ ہمیں کچھ پتہ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو پتہ ہے بعض کے متعلق ان کو بھی پتہ نہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ یعنی انسان کی اپنی کوشش کا جو نتیجہ ہے وہ اس کے لئے غیب ہے اور ان اقوام کی جو کوششیں ہیں وہ ہمارے لئے غیب اور ان کوششوں کا نتیجہ ان کے لئے غیب ہے روس سوچ رہا ہے (اگر وہ اپنے دعوئی میں سچا ہے جیسا کہ اس نے اعلان کیا تھا ) کہ میں زمین سے اللہ کے نام اور آسمان سے اس کے وجود کو مٹا دوں گا لیکن جو غیب کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں دی ہے وہ یہ ہے کہ رشیا میں اپنی جماعت کو ریت کے ذروں کی طرح پھیلا ہوا دیکھتا ہوں۔وہ سوچ کچھ رہے ہوں گے اگر وہ اپنے دعوئی میں سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علم میں کوئی اور چیز ہے وہ سمجھتے ہوں گے کہ ہماری اتنی بڑی طاقت ہے کہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں ہم شمار ہوتے ہیں۔سارے منصوبے ضرور کامیاب ہوں گے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم جو مرضی سو چتے رہو۔اپنی جتنی طاقت سمجھو میرے مقابلے میں تمہاری کوئی طاقت نہیں۔ہوگا وہی جس کا میں ارادہ کروں گا اور جو میں تمہیں غیب کے متعلق بتا تا ہوں وہ پوارا ہو گا تمہاری تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی نہ تم آسمان سے خدا کے وجود کو مٹا سکو گے نہ اللہ کے نیک بندوں کے دل سے اس کے نام اور پیارا اور محبت اور عشق کو مٹا سکو گے اور احمدیت کے ذریعے تمہاری قوم کے دل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتے جائیں گے اور ایک دو کے نہیں جیسا کہ کمیونسٹ ملکوں میں واقع ہو چکا ہے وہاں احمد یہ جماعتیں قائم ہو رہی ہیں غرض اتنی کثرت سے جیتے جائیں گے کہ اگر تمہارے ملک کے ریت کے ذروں کو شمار نہیں کیا جا سکتا تو اسی طرح احمدی مسلمانوں کو بھی شمار نہیں کیا جا سکے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری بڑی بھاری اکثریت تمہارے دعووں کے ہوتے ہوئے اور تمہاری کوششوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کو پہچانے گی اس کی معرفت حاصل کرے گی اور اس کے فضلوں کی وارث بنے گی ہمارے لئے یہ آئندہ کے متعلق غیب ہے اور جس طرح ہمیں یہ یقین ہے کہ اس وقت سورج چمک رہا ہے اور دن ہے جس طرح ماں اور باپ کو یہ یقین ہے کہ ان کے ایک دو تین چار یا جتنے بھی خدا نے بچے دیئے ہیں اور زندہ ہیں مرے ہوئے نہیں ہیں جس