خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 298
خطبات ناصر جلد سوم ۲۹۸ خطبه جمعه ۲۱ راگست ۱۹۷۰ء ابتلاء مقدر ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا امتحان لینا ہے لیکن ہم میں سے جو پاس ہو جائے جنہیں اللہ تعالیٰ یہ سمجھے کہ یہ امتحان میں پورے اترے ہیں اور خدا کرے کہ ہم سارے ہی اس امتحان میں پورے اتریں ان کے لئے جو بشارتیں دی گئی ہیں ان کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں جو محبت کا پیغام دیا گیا ہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہے اس اجتماعی حیات احمدیت سے اللہ تعالیٰ جو پیار کر رہا ہے جو اجتماعی معجزے دکھا رہا ہے جو دنیا کے دلوں میں ایک انقلاب عظیم پیدا کر رہا ہے دنیا کے دل میں جو یہ ایک احساس پیدا کر رہا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا ہمیں احمدیت کی وجہ سے پتہ لگا ہے اس واسطے ایک طرف حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا سمندر ان کے دلوں میں موجزن ہوا تو دوسری طرف وہ ہمارے ساتھ پیار کرنے لگ گئے کیونکہ انہوں نے یہ سمجھا کہ کتنا بڑا احسان ہے اس چھوٹی سی غریب جماعت کا کہ وطنوں سے بے وطن ہوکر اور اپنے پیٹوں پر پتھر باندھ کر انہوں نے ہماری خاطر یہ قربانی دی کہ ہمیں آج وہ حسین چہرہ جس سے بڑھ کر کوئی حسن نہیں وہ حسین چہرہ جو خود منبع اور سرچشمہ ہے تمام حسنوں کا اس کے ساتھ متعارف کروایا اس کی معرفت ہمیں حاصل ہوگئی اس لئے وہ ہم سے پیار کرتے ہیں اس لئے ہم ان سے پیار کرتے ہیں کیونکہ ہم دونوں ایک ہی کشتی میں ہیں یعنی نوح کی کشتی جسکے متعلق سلامتی کا وعدہ ہے۔پس ابتلاء تو آئیں گے لوگ کافر کہنے سے باز نہیں آئیں گے جب تک کہ وہ آخری وعدہ پورا نہ ہو جائے جو ہمیں افق پر نظر آ رہا ہے اور عنقریب پورا ہونے والا ہے۔۳۰،۲۰ یا ۵۰ سال دنیا کی زندگی میں یہ کوئی زمانہ نہیں ہے لیکن یہ کوئی لمبا عرصہ نہیں ہے۔اب میری تو رائے یہ ہے کہ شاید اس کے آثار ۲۰ اور ۳۰ سال کے اندر شروع ہو جائیں گے گو اس کا کلائمیکس ممکن ہے صدی کے اندر کسی وقت ہو لیکن نمایاں طور پر ایک بات سامنے آجائے گی کہ احمدیت جیت چکی ہے اور اس کی مخالفت نا کام ہو چکی ہے۔بہر حال غیب کا علم تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہم تو جو سمجھتے ہیں وہ نیک نیتی سے بیان کر دیتے ہیں تا کہ آپ بھی دعا کریں اور سارے مل کر یہ دعا کریں کہ جو ہمارے اندازے ہیں وہی صحیح نکلیں جلد تر ساری دنیا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں آکر