خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 17 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 17

خطبات ناصر جلد سوم ۱۷ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء لیکن اگر آپ نے اسے اپنے قدموں یا اپنے خاندان کے لوگوں، مہمانوں اور دوستوں کے قدموں کی کوٹائی پر چھوڑا تو پندرہ بیس دن یا ایک مہینہ لگ جائے گا۔قدموں کے دباؤ کی وجہ سے آہستہ آہستہ مٹی بیٹھ جائے گی یہ ایک چھوٹی سی مثال میں نے دی ہے لیکن ہر چیز اس دنیا میں اپنی پختگی کے لئے وقت کی محتاج ہے اور وہ وقت کا مطالبہ کرتی ہے آم کے درخت کو لے لو وہ ایک وقت کے بعد پھل لاتا ہے۔ایک احمدی بچہ ایک وقت کے بعد اطفال الاحمدیہ سے نکل کر خدام الاحمدیہ میں داخل ہوتا ہے ایک حافظ قرآن جب قرآن کریم حفظ کرنے لگتا ہے تو اسے پہلے چھوٹی چھوٹی سورتیں حفظ کرائی جاتی ہیں ( پتہ نہیں اب بھی یہی طریق ہے یا نہیں ) اور اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ تا چھوٹی چھوٹی سورتیں جلدی یاد ہونی شروع ہو جائیں اور پھر بڑی سورتوں کی طرف اسے لایا جائے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اندر پختگی پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ اپنے حافظہ پر زیادہ بھروسہ کرتے ہوئے اور خود اعتمادی کے ساتھ قرآن کریم یاد کرتا چلا جاتا ہے۔غرض کمزوری ایمان جو احمدیت میں نئے نئے داخل ہونے یا احمدیت میں پیدائش کے نتیجہ میں ہمیں نظر آتی ہے وہ ہم سے تربیت کا مطالبہ کرتی ہے لیکن نفاق ہم سے بیدار اور چوکس رہنے کا مطالبہ کرتا ہے اور چونکہ دنیا کا قاعدہ یہی ہے کہ پانی ہمیشہ نشیب کی طرف بہتا ہے، زبر دست کمزور پر حملہ آور ہوتا ہے اس لئے نفاق کو یا منافق کو اگر موقع مل جائے تو وہ وہاں حملہ کرے گا جہاں اسے کمزوری نظر آئے گی ایک منافق مثلاً امیر جماعت احمد یہ سرگودھا کے پاس جا کر ان کے ایمان پر حملہ نہیں کرے گا بلکہ چک نمبر ۳۵ میں جو ایک نیا نیا احمدی ہوا ہے وہ اس کے پاس جائے گا اور اس پر حملہ آور ہو گا۔وہ کمزوری ایمان جو احمدیت میں نئے نئے داخل ہونے کی وجہ سے یا احمدیت میں پیدائش کے نتیجہ میں نظر آتی ہے ہم نے اس کی دو طرح حفاظت کرنی ہے ایک تو ہم ایسے کمزور ایمان والے کو نفاق کے حملہ سے بچا کر اس کی حفاظت کریں گے اور دوسرے آہستہ آہستہ اس کی تربیت کر کے اس کی حفاظت کریں گے ایسے کمزور ایمان والے ربوہ میں بھی ہوتے ہیں باہر سے بعض کمزور لوگ آجاتے ہیں اور ربوہ میں آکر آباد ہو جاتے ہیں ان میں سے بعض کا تو نظارت امور عامہ کو بھی پتہ