خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 259
خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۹ خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء خدا کرے ایسا ہو۔خدا کرے کہ ہماری آج کی جو ذمہ داری ہے اس کو ہم نبھا سکیں۔آج ہم انتہائی طور پر نازک دور میں سے اس معنی میں گزر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری عظیم کامیابیوں کے لئے دنیا کی فضا کو ہمارے لئے بہتر بنادیا ہے اور اس تبدیلی کا جو امکان ہے اس تبدیلی کو عملی شکل دینا یہ ہمارے سپر د کر دیا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے قریباً پھل تیار کر کے اس طرح جس طرح دس فٹ کے اوپر اس درخت کا پھل پک جائے جو خود بخود نہیں گرا کرتا۔یعنی پڑکا نہیں ہوتا۔بعض ایسے درخت ہوتے ہیں جس کا پھل پڑکا نہیں ہوتا۔آم تو ٹپک پڑتا ہے۔بعض پھل پکنے کے بعد بھی درخت کے ساتھ لگے رہتے ہیں۔تو جو دس فٹ اوپر پھل ہے اور پک جاتا ہے اس کو توڑنا انسان کا کام ہے۔پھل پک چکا ہے لیکن گرے گا نہیں۔جس طرح میں نے افریقنوں کو کہا تھا ایک مضمون کے سلسلہ میں آپ کو بھی میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کی کامیابی کے جو مختلف دور ہیں اور جن مدارج میں سے ہم نے گزرنا ہے۔سیڑھی بہ سیڑھی چڑھ کر بہت عظیم انقلاب ہمارے سامنے ہے۔مقدر ہو چکا ہے لیکن اس Destiny ( ڈسٹی ) اس تقدیر کا پھل ہم نے توڑنا ہے۔ہماری گود میں نہیں گرے گا۔پھل تیار ہے۔رفعتوں کو آپ حاصل کریں اور پھل کو پالیں۔اِثَاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ خدانخواستہ ہماری ذہنیت ہو تو جو بلندیوں میں پھل تمہارا انتظار کر رہا ہے زمین پر گر جانا یا زمین کے ہو جانے سے وہ پھل تمہیں نہیں مل سکتا۔ایسا نہ کبھی ہوا نہ ہو سکتا ہے اور نہ کبھی ہوگا تو جو چیز تمہارے لئے مقدر ہو چکی ہے اس کے حصول کے لئے انتہائی کوششیں کرو اور اللہ کے انتہائی فضلوں کو حاصل کرو۔خدا آپ کو بھی اور مجھے بھی اس کی توفیق عطا کرے۔(اللَّهُمَّ آمین) از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ ) 谢谢谢