خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 258
خطبات ناصر جلد سوم ۲۵۸ خطبہ جمعہ ۳۱؍ جولائی ۱۹۷۰ء طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرح جس طرح ان بزرگ فدائیوں کو جو ثانی اثنین تھا ہر ایک کو اُنہوں نے یا درکھا۔اس طرح تمہیں یاد نہ رکھے گی لیکن اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں فنا ہو کر اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کے قدموں میں ڈال دو تو خدا تعالیٰ کی رحمت آسمانوں سے تم پر نازل ہوگی اور وہ فوجیں اُتریں گی جنہیں تم تو دیکھو گے لیکن دنیا نہیں دیکھ رہی ہوگی نہ کمز ور ایمان اور منافق انہیں دیکھ رہا ہو گا۔نتائج ظاہر کر رہے ہوں گے کہ ایک انقلاب عظیم آیا ہے اس کے پیچھے کوئی ہاتھ ہونا چاہیے لیکن وہ ہاتھ نظر نہیں آرہا ہوگا کیونکہ وہ غیر مرئی ہاتھ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کا ہو گا جسے یہ انسان اور اس کی آنکھ نہیں دیکھا کرتی اور جو مالی مطالبہ ہے میں سمجھتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ اسے اتنے لاکھ ہو جانا چاہیے جو خلافت احمدیہ کے سال ہیں۔یعنی اس وقت تک دو خلافتیں اور کچھ سال پتہ نہیں کب تک میں نے زندہ رہنا ہے لیکن اس وقت تک جوز ندگی اللہ تعالیٰ مجھے دے چکا ہے۔اس کو پہلی دو خلافتوں کے سالوں میں شامل کر کے جتنے سال بنتے ہیں تقریباً باسٹھ سال۔اتنے لاکھ ( چندہ نصرت جہاں ریز رو فنڈ کا ) ہونا چاہیے اور جانی قربانی اتنی کثرت سے اور اس قدر ایثار سے ہونی چاہیے کہ اگلے پانچ سال ، پچھلے ساٹھ سالہ ظاہری ترقی کے مقابلہ میں زیادہ ہوں یعنی اگلے پانچ سال میں اپنی Base( میں ) کو اپنے حملہ کے لئے جو تیاری ہو یعنی آخری کامیاب حملہ کی جو تیاری ہو اس کے لئے اس قدر تیار کر لیں کہ آہستہ آہستہ بتدریج اللہ تعالیٰ نے جو ترقی دی تھی۔اگلے پانچ یا دس سال میں ہم اس سے آگے نکل جائیں۔یہ ضروری ہے کامیابی کے لئے محض ترقی ضروری نہیں۔محض اپنی رفتار کو قائم رکھنا یہ کافی نہیں بلکہ ہر دوسرا قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہیے اور اس کو انگریزی میں Momentum کہتے ہیں۔یعنی ہر سال کوشش اور اس کا نتیجہ پہلے سال سے دُگنا ہونا چاہیے تب ہم جا کر اگلے دس سال میں اسی چیز کو حاصل کر سکتے ہیں جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جس کے حصول کو اللہ تعالیٰ نے بالکل ممکن بنا دیا ہے۔جو میں وہاں دیکھ کر آیا ہوں آدمی کثرت سے آئیں مخلص آئیں ایسے آئیں کہ جو فدائی ہوں۔بے نفس ہوں مردہ ہوں دنیا کی نگاہ میں اور اللہ تعالیٰ سے زندگی کو حاصل کرنے والے ہوں۔