خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 15

خطبات ناصر جلد سوم ۱۵ خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۷۰ء لیا ہوا ہے کسی اور ہستی کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا پھر جب وہ ہستی جو رحمت محض ہے اور جس نے اپنی رحمت اور پیار کے لئے ہی اپنے بندوں (انسانوں) کو پیدا کیا ہے کسی میں ظلم دیکھتی ہے جب وہ ہستی کسی میں ناپا کی اور گندگی پاتی ہے تو کسی انسان کا یہ حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ چونکہ ہماری آنکھ نے صرف اولاد میں گند کو دیکھا تھا اور ان کے ماں باپ کی عدم توجہ کو ہماری آنکھ نہیں دیکھ سکتی تھی ہماری ناقص عقل میں وہ نہیں آسکا تھا۔ہمارے کمزور علم میں وہ بات نہیں آئی تھی اس لئے ہم ان پر گرفت نہیں کر سکتے۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض ایسے ابتلاء ہوتے ہیں کہ صرف ظالم ہی ان کی گرفت میں نہیں آتے بلکہ تمہاری نگاہ جن کو ظالم نہیں سمجھتی وہ بھی اس کی گرفت میں آجاتے ہیں اور آنے چاہئیں اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ اِس حدیث میں مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ کے محض یہ معنی نہیں ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ان پر گرفت کرے گا اور ان سے جواب طلب کرے گا کہ تم کیا کرتے ہو بلکہ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ کا یہ مطلب بھی ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذمہ دار قرار دیئے گئے ہیں (مثلاً نظام جماعت اور خلیفۂ وقت ) وہ بھی اللہ تعالیٰ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اور اس کے اس خُلق کو اپنے اندر پیدا کرتے ہوئے جواب طلبی کر یں گے ان کے سامنے بھی تم مسئول ہو اور تم سے جواب طلبی کی جائے گی۔پہلے ایک آدھ خاندان میں برائی ہوتی ہے یا ایک آدھ برائی ہوتی ہے اگر ساری قوم یا قصبہ اور شہر کے سارے مکین اس کو دیکھ کر اس سے بیزاری کا اعلان نہ کریں اور نفرت کا مظاہرہ نہ کریں تو آہستہ آہستہ اس بُرائی کی بھیانک اور مکر وہ شکل اور اس کی ناپاکی نگاہ سے مخفی ہو جاتی ہے اور پھر اور لوگ بھی اس میں ملوث ہو جاتے ہیں۔پس ربوہ میں کوئی ایک گھر بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے جس میں اس قسم کی ناپاکیاں اور بدیاں اور گند پائے جاتے ہوں اور اگر کوئی ایسا گھرا نہ ہوا تو صرف ان معصوم بچوں کو ہی جن پر آپ نے ظلم کیا ہے ربوہ سے باہر نہیں بھیجا جائے گا بلکہ آپ ظالموں یعنی ماں باپ کو بھی ساتھ ہی یہاں سے روانہ کیا جائے گا۔اس لئے تم اپنی اور اپنے گھر کی فکر کرو۔ہم بہر حال ربوہ کی پاکیزگی اور اس کے اچھے نام پر کوئی داغ نہیں لگنے دیں گے۔انشاء اللہ۔