خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 221
خطبات ناصر جلد سوم ۲۲۱ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۷۰ء مانگتے ہیں پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ہاں ایک چیز رہ گئی ہے اور وہ بھی بڑی ضروری ہے اور بڑی عجیب ہے میں نے ان کے معاشرہ کی جو خصوصیات دیکھیں ان میں میں نے یہ بھی دیکھا اور میں یہ دیکھ کر بڑا خوش ہوا کہ ان ملکوں کی حکومتوں کو اپنے سکولوں کو بہتر سے بہتر بنانے کی طرف بے انتہا تو جہ ہے میں بغیر کسی مبالغہ کے کہہ سکتا ہوں کہ جتنی توجہ وہ اپنے سکولوں کی طرف دیتے ہیں اس کا سواں حصہ بھی ہمارے ملک میں سکولوں کی طرف نہیں دیا جا رہا۔وہاں ہمارے اپنے سکول ہیں۔میرا خیال ہے کہ ۹۹ فیصد پاکستان کے گورنمنٹ کالجز کی لیبارٹریز اتنی اچھی Equipped ( سامان سے آراستہ) نہیں جتنی اچھی وہاں ہمارے ہائر سیکنڈری سکولز کی لیباریٹریز ہیں۔سارا خرچ حکومت دیتی ہے اور پھر ہمیں اپنی پالیسی چلانے کی بھی اجازت ہے۔سکولوں کے سٹاف کی ساری تنخواہیں حکومت دے رہی ہے مثلاً سیرالیون میں ہمارے چار سکول ہیں ( اور جگہوں پر بھی ہیں ) ان چاروں سکولوں کے سارے سٹاف کی تنخواہیں حکومت دیتی ہے اور اب وہ بعض دفعہ عیسائی ٹیچر بھی مقرر کر دیتے ہیں لیکن تربیت کے لحاظ سے، دینیات پڑھانے کے لحاظ سے ہماری پالیسی چل رہی ہے مثلاً فری ٹاؤن کے سکول کے اساتذہ میں میرے خیال میں پانچ چھ غیر احمدی ہیں یہ میں نے پتہ نہیں لیا ان میں کوئی عیسائی بھی ہے یا نہیں البتہ کماسی میں تین چار عیسائی بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے فری ٹاؤن کے سکول کی آخری کلاس جو ۲۷ لڑکوں پر مشتمل تھی جب امتحان پاس کر کے نکلی تو ساروں کے ساروں نے بلا استثنا بیعت فارم پر دستخط کئے اور اپنے سرٹیفکیٹ لے کر گھروں کو چلے گئے پس پیسے وہ خرچ کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کام ہمارے کئے جا رہا ہے لیکن یہ تو علیحدہ معاملہ ہے اس پر شاید یہاں سمجھ آنے میں کچھ دیر لگے اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ عطا کرے لیکن یہ کہ سکول اچھا ہو سٹاف اچھا ہواس طرف ان کو تو جہ ہے اس وجہ سے ایک وزیر ہمارے پر نسپل کو کہنے لگے کہ لوگ ہماری بوٹیاں نوچ رہے ہیں کہ اس سکول کو کہو کہ زیادہ لڑکوں کو داخل کرے کیونکہ وہ اپنے لڑکوں کو کسی اور سکول کی بجائے وہاں داخل کروانا چاہتے ہیں ہوا یہ تھا کہ حکومت نے یہ قانون بنایا کہ کسی ہائی سکول میں جو کہ پانچ سالہ کورس کا ہے یعنی ہائر سیکنڈری سکول میں ۳۵۰ یا ۳۶۰ سے زیادہ لڑ کے داخل نہیں