خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 196
خطبات ناصر جلد سوم ۱۹۶ خطبہ جمعہ ۳ جولائی ۱۹۷۰ء اثر ورسوخ ہے۔ایک خلاف فطرت کام کرنے والا افسر اور لیڈر جو ہے جہاں عیسائیت کا مقابلہ ہوگا وہ عیسائیت کی مدد کر جائے گا حالانکہ اس کے سارے اعمال اور زندگی عیسائی نقطۂ نگاہ سے بھی گند میں ملوث ہے۔یہ جنگ جو ہم نے عیسائیت سے لڑنی ہے اس کا فیصلہ افریقہ میں ہوگا کیونکہ اگر آج ہم افریقہ سے عیسائیت کو نکال دیں تو پھر ان کے لئے یہ بڑا ہی مشکل ہے پین یا جنوبی امریکہ میں اس طرح اکٹھے ہو جانا اور Counter attack ( کاؤنٹر اٹیک) کے لئے جمع ہو جانا کہ جس میں انہیں کامیابی کی کوئی امید ہو۔عیسائیت کے دلائل کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتنا ز بر دست لٹریچر جمع کر دیا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک ایک چیز کو لے کر اس کے پر خچے اڑا دیئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاء اللہ نو جوانوں کے لئے ان کا ایک خلاصہ شائع کر دیا جائے گا جس میں صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیان فرمودہ دلائل ہوں گے۔عیسائیت کے ایک مسئلہ کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا تھا اس کے متعلق اب مختصر ہی کچھ کہوں گا کیونکہ دیر ہوگئی ہے اور یہ مسئلہ نجات ہے۔عیسائیوں کے نزدیک نجات کا مفہوم یہ ہے ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو بیان کیا ہے میں اسے اپنے الفاظ میں مختصر بیان کر رہا ہوں ) کہ انسان گناہ اور نسیان کے مواخذہ سے بچ جائے اور بس، یعنی گناہ تو وہ کرتا رہے لیکن اسے سزا نہ ملا کرے یہ ان کے مسئلہ کفارہ سے استدلال ہوتا ہے۔میں اس وقت اس کی تفصیل میں نہیں جاسکتا بہر حال عیسائی اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ان کے نزدیک نجات کے معنے یہ ہیں کہ ایک گناہگار بیشک گناہ کرتا رہے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے مواخذہ نہیں ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ دنیا میں بے شمار ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ خواہ ان کا کوئی مذہب ہو یا نہ ہو وہ اس قسم کے موٹے موٹے گناہ کرتے ہی نہیں۔کیا مجال ہے کہ وہ زنا کریں، چوری کریں یا ڈاکہ ڈالیں یا کسی کو قتل کریں مگر پھر بھی کوئی عقلمند شخص انہیں نجات یافتہ نہیں کہہ سکتا۔صرف اس لئے کہ وہ چوری نہیں کرتے ،صرف اس لئے کہ وہ زنا نہیں کرتے ،صرف اس لئے کہ وہ ڈاکہ نہیں ڈالتے ،صرف اس لئے کہ وہ قتل نہیں کرتے ، صرف اس لئے کہ وہ لڑکیوں کو اغوا نہیں کرتے وہ نجات یافتہ نہیں