خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 194
خطبات ناصر جلد سوم ۱۹۴ خطبہ جمعہ ۳/ جولائی ۱۹۷۰ء ۱۷۰ میل کی مسافت سوا تین گھنٹے میں طے کی۔کوئی آدمی سڑک پر نہیں آتا۔سڑک کے کنارے سات آٹھ سال کے بچے گداڑئے لگا رہے ہوتے ہیں مگر کیا مجال ان میں سے کوئی سڑک پر آجائے وہ سڑک کے کنارے یا دکانوں کے پاس رہتے ہیں مگر جہاں سے ٹریفک گزر رہی ہوتی ہے وہاں بالکل نہیں جاتے۔ان کی سنجیدگی کا یہ حال ہے کہ ایک چھوٹی افریقن بچی جسے ہم نے اپنی بیٹی بنایا ہے ( اس کا باپ راضی ہو گیا تھا۔اسے ہم ساتھ تو لانہیں سکتے تھے۔تیاری مکمل نہیں ہو سکتی تھی مثلاً پاسپورٹ وغیرہ بنوانا تھا ) وہ بچی منصورہ بیگم کو اس لئے پسند آئی کہ تین گھنٹے کا جلسہ اور پانچ سال کی وہ لڑکی۔منصورہ بیگم کہتی ہیں کہ وہ میرے قریب آکر بیٹھ گئی اور تین گھنٹے تک خاموشی سے بیٹھی رہی۔یہاں تک کہ اس نے اپنی ٹانگ بھی نہیں ہلائی اور جلسہ کی کارروائی کو بڑی توجہ سے سنتی رہی حالانکہ اسے کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا۔بچپن آخر اس کا بھی ہے صرف ہمارے بچوں کا بچپن تو نہیں ہوتا چنا نچہ بچپن کی عمر نے بھی کوئی جوش نہیں دکھا یا وہ ہلی تک نہیں بلکہ ساتھ بیٹھی ہوئی عورت نے اسے کہا بھی کہ تم تھک گئی ہوگی اپنی ٹانگوں کو ہلا ؤ جلاؤ مگر اس نے سنی ان سنی کر دی اور اسی طرح بیٹھی رہی۔پس اس قسم کے بچے وہاں پیدا ہورہے ہیں وہاں ہمارے سکولوں میں عجیب ڈسپلن ہے انہیں دیکھ کر رشک آتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ زیادہ ڈسپلن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے سکولوں میں پیدا ہوا ہے لیکن اس ڈسپلن کو قبول کرنے والے تو وہی افریقن ہی ہیں۔وہ تعلیم میں بھی بڑے اچھے جا رہے ہیں۔مجھے بھی بعض موقعوں پر یہ نہیں کہ میں نے ان میں کوئی نقص دیکھا ) یہ بات کہنی پڑتی تھی کہ پیچھے نہ دیکھو۔یہ درست ہے تم مظلوم ہو کئی سوسال تمہیں یورپی اقوام نے کو ٹا تمہیں تعلیم نہیں دی۔اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں لیکن پیچھے دیکھنے کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اگر تعلیم کے اور مادی ترقیات کے اور روحانی ترقیات کے دروازے تم پر بند ہوتے اور تمہیں اپنے مستقبل کی طرف پیٹھ کرنی پڑتی توتم پیچھے دیکھتے اور گڑھتے ، گالیاں دیتے اور بدلہ لینے کی سوچتے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے علم کے میدان میں بھی اور مادی ترقیات کے میدان میں بھی اور روحانی ترقیات کے میدان میں بھی ہمارے لئے بزرگ شاہراہیں کھول دی ہیں تو اب آگے بڑھو سامنے کی طرف