خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 177 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 177

خطبات ناصر جلد سوم 122 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۷۰ء ہے حالانکہ ان میں سے بہت بڑی تعداد غیر احمدیوں ، عیسائیوں اور مشرکوں کے بچوں کی ہوتی ہے۔عیسائیوں اور مشرکوں میں سے بہت سے ماں باپ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے سکولوں میں اپنے بچوں کو اس لئے داخل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں ہمارے سکولوں میں ان کے بچے خراب نہیں ہوں گے لیکن کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا بچہ تعلیم الاسلام کالج میں داخل ہو کر خراب نہیں ہوگا؟ سوال میں کر دیتا ہوں جواب آپ خود سوچ لیں۔پھر وہاں بڑی خوبی کی بات یہ ہے ) کہ یہاں عام طور پر سٹاف کے ممبر آپس میں لڑتے رہتے ہیں مگر ) وہاں سٹاف کے ممبروں میں غیر احمدی بھی ہیں عیسائی بھی ہیں اور بعض غیر ملکی بھی ہیں لیکن ان میں آپس میں بڑا پیار ہے کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ، بڑی امن کی فضا ہے اور اس پرامن فضا کے پیدا کرنے میں ہمارے یہاں کے پاکستانی اساتذہ کا بڑا حصہ ہے جن میں سے (ساری جگہوں پر تو نہیں لیکن بہت سے پرنسپل ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑے اچھے دل اور دماغ اور جذبات اور احساسات دیئے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں استقامت بخشے اور اپنی برکات سے نوازے۔جو ڈاکٹر وہاں اس وقت کام کر رہے ہیں وہ بھی بہت اخلاص سے کام کر رہے ہیں ہمارے ہیلتھ سنٹر ابھی چند ہی ہیں مثلاً نائیجیریا میں ہمارے تین ہیلتھ سنٹر ز ہیں ایک گیمبیا میں ہے اور یہاں بہت سارے کھولنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کا جو منشاء مجھے معلوم ہوا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں پہلے ہیلتھ سنٹرز کھولنے کی طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہ بڑا غریب ملک ہے اور بیماری میں تو انسان ویسے ہی قابلِ رحم بن جاتا ہے وہ بیمار ہوتے ہیں تو انہیں وہاں کوئی معمولی طبی امداد دینے والا بھی نہیں ہوتا میں نے بتایا تھا کہ سارے گیمبیا میں ایک بھی Eye Specialist ( آئی سپیشلسٹ) نہیں۔وہاں جس بیچارے کی آنکھیں خراب ہو جائیں وہ اپنی آنکھیں دکھانے کے لئے پاسپورٹ دے کر کئی سو میل دور سینیگال کے دارالخلافہ ڈا کار جاتا ہے پھر اگر اسے عینک لگنی ہو تو وہ واپس آکر جس نمبر کی اسے عینک لگنی ہوتی ہے اسے لندن خط لکھ کر وہاں سے منگوانی پڑتی ہے اور جو عینک یہاں آٹھ دس روپے میں بن جاتی ہے وہاں اس کے اوپر ۱۰۰ روپے سے بھی زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔پس وہاں ایسے علاقوں کے علاقے پائے جاتے ہیں جہاں کوئی ڈاکٹر نہیں کماسی