خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 159
خطبات ناصر جلد سوم ۱۵۹ خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۷۰ء ہے ان کے وجود سے امید ہے ہمارے ملک کو برکت ملے گی۔یہ کلمات اس کے منہ سے نکلے یہ تو اللہ تعالیٰ کی دین ہے ہمارے دل میں کبھی ایسی خواہش ہی نہیں پیدا ہوئی۔ہمیں دنیا نے کیا دینا ہے دنیا کے سب سر براہ مل کر بھی مہدی معہود علیہ السلام کے نائب اور خلیفہ کو وہ عزت نہیں دے سکتے جو اسے پہلے سے ہی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں حاصل ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل دیکھ کر کہ ایک عیسائی ہے غیر ملکی ہے اس سے زیادہ لمبی چوڑی واقفیت بھی نہیں ہے اور جو کلمات اس کے منہ سے نکلے وہ کسی کتاب میں تو اس نے نہیں پڑھے وہ تو فرشتوں نے اس کے دل میں القا کئے اور اس کی زبان نے ان کو ظاہر کر دیا۔اس قسم کی عزت تو ہمارے بے نفس مبلغ جو وہاں ہیں ان کو بھی مل رہی ہے لیکن جس نوجوان کو یہ سبق ملے گا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تفسیر میں غلطیاں کیں اور آؤ اب ہم ان کو درست کریں اس نے کیا خدمت کرنی ہے جا کر۔وہ تو قطع ہو گیا، ٹوٹ گیا۔یہ فقرہ سننے کے بعد تو اس کے پرخچے اڑ گئے۔اب میں ایک نئی تنظیم کا اعلان کرنے لگا ہوں میں نے بہت سوچا، بہت دعائیں کیں میں اللہ تعالیٰ کی طرف عاجزانہ جھکا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہمیں اپنا پرانا طریق بدل دینا چاہیے اور یہ چیز پہلے مبلغین پر بھی حاوی ہو جائے گی اور نئے آنے والوں پر بھی کہ نہ کوئی تحریک کا ہوگا نہ کوئی انجمن کا ہوگا تمام واقفین کا ایک خاص گروہ بن جائے گا ایک جماعت ایک Pool (پول) ہوگا۔ایک Reservoir ( ریز روائیر ) ہوگا ایک تالاب ہو گا جس میں یہ روحانی مچھلیاں اجتماعی زندگی گزاریں گی اور تربیت حاصل کریں گی اور نشوونما پائیں گی ، نئے اور پرانے اس پول میں چلے جائیں گے جو پرانے ہیں ایک سال کے اندر ہم ان کی Screen (سکرین) کریں گے یعنی بصیغہ راز ان کے تمام حالات، ان کی ذہنیت وغیرہ وغیر ہ معلوم کریں گے یہ ضروری نہیں کہ کسی میں کوئی نقص ہو اس کی وجہ سے اس کو باہر نہ بھیجا جائے۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے حالات یا اس کی ذہنیت ایسی ہو کہ وہ یہاں بہت اچھا کام کر سکتا ہو باہر نہ کر سکتا ہو۔یہ سارے کوائف ہم اکٹھے کریں گے اور اسی طرح مثلاً آٹھ جو میں نے پہلے مثال دی تھی کہ جامعہ سے جو نئے فارغ ہوئے ہیں ان نئے فارغ ہونے والوں کو اس پول میں بھیج دیا جائے گا نہ کوئی تحریک کے پاس جائے گا نہ انجمن کے پاس لیکن تعداد دونوں کی