خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 2
خطبات ناصر جلد سوم خطبہ جمعہ ۲ / جنوری ۱۹۷۰ء عبد الرحیم صاحب یونس مع اہلیہ کے آئے ہوئے ہیں ان کی اہلیہ صاحبہ نے ایک خواب دیکھی جو انہوں نے مجھے لکھ کر بھجوائی اس کا پہلا حصہ زیادہ تر ان کی ذات سے تعلق رکھتا ہے اسے میں نے چھوڑ دیا ہے اللہ تعالیٰ ہر شکل میں ان کے لئے اس حصہ کو بھی بابرکت کرے جس حصہ کا جماعت سے اور اس جلسہ سے تعلق ہے اس حصہ کو میں سنا دیتا ہوں وہ لکھتی ہیں :۔۔اتنے میں میری نظر اُٹھی تو دیکھا کہ مجھ سے کچھ فاصلے پر ایک بزرگ ہستی تشریف فرما ہیں۔میرے قریب کھڑی ایک بہن نے مجھے بتایا کہ حضرت اماں جان ہیں یہ ٹن کر میں خوشی خوشی آگے بڑھی اور قریب گئی تو میں نے دیکھا کہ وہ بزرگ ہستی نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ہیں۔یعنی پہلے نصرت جہاں پھر مبارکہ بیگم ناموں کی تعبیر ہوتی ہے۔میں قریب بیٹھ گئی تو وہ کہنے لگیں کہ آج میری ملاقات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہوئی تھی آپ نے فرمایا کہ میں امسال جلسہ پر آنے والوں سے بہت خوش ہوں اور میں نے ان سب کے لئے بہت دعائیں کی ہیں اور بہت دعائیں کر رہا ہوں۔دوستوں نے اس قسم کی بہت سی خوا میں دیکھی تھیں۔یہ تقریر کے متعلق بھی بعض دوستوں نے خواب دیکھی کہ اللہ تعالی بڑا فضل کرے گا اور اپنی رحمت سے اس مضمون کو تیار کر دے گا اور ساتھ یہ بھی دیکھا کہ جو منافق الہی سلسلوں کے بیچ میں ہوتے ہیں ان میں سے ایک آدھ یہ اعتراض بھی کریں گے کہ یہ بھی کوئی تقریر ہے۔پس یہ چیزیں بعض چھوٹی چھوٹی خوابوں میں اس لئے آجاتی ہیں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ نفس کی خواب نہیں۔بعض ایسی چیزیں ہیں جن کو نفس سوچتا ہی نہیں مثلاً جو پیار کرنے والا دل ہے وہ پیار والا حصہ دیکھ لے گا اگر اس کے نفس کا اثر ہو اور جو معترض ہے وہ صرف اعتراض والا حصہ دیکھ لے گا پس جب پیار کرنے والے کو ایسی خواب آتی ہے تو اس میں اعتراض والا حصہ بھی دکھایا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ حصہ اس کے نفس کا نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔جیسا کہ دوست جانتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا میں عید کے بعد انفلوائنزا کی وجہ سے بیمار ہوگیا تین چار دن بخار میں لیٹا رہا میری طبیعت میں بڑی گھبراہٹ بھی تھی کیونکہ امام وقت پر