خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 116 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 116

خطبات ناصر جلد سوم 117 خطبہ جمعہ ۱۲ / جون ۱۹۷۰ء کے کیتھولک مشن کے سب سے بڑے پادری بھی موجود تھے ( اللہ تعالیٰ نے وہاں جماعت احمدیہ کو اننا رعب دیا ہے کہ پادریوں کو ہمارے جلسوں میں آنا پڑتا ہے وہ پیچھے رہ ہی نہیں سکتے ) لیکن کوئی توجہ نہیں تھی وہ بے تعلقی کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے میں نے اپنے افریقن بھائیوں سے کہا کہ وہ سب نبیوں کا سردار تھا اور تمام بنی انسان کا فخر اور سب سے اعلیٰ اور ارفع تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔جب اس نے قرآن کریم میں یہ اعلان کیا اِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ( حم السجدة : - ) کہ انسان ہونے کی حیثیت میں مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں میں تمہارے جیسا انسان اور تم میرے جیسے انسان۔پس وہ جو اس کے ماتحت تھے اور اس سے کم درجہ رکھتے تھے Those who were junior to him like Moses and Christ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام ان کو اور ان کے پیروؤں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ تم پر برتری کا اعلان کریں وہ پادری جو پہلے بے تعلقی سے بیٹھا ہوا تھا اچھل کر بیٹھ گیا اور اس نے کہا ہمارے اوپر یہ کیا بم گرا دیا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم اور جب ہم اس میٹھی آواز کو خود اپنے کانوں سے سنتے ہیں تو فر شتے ہمیں آکر کہتے ہیں دیکھو تمہارا محبوب اور پیارا بنی نوع انسان کا کس قدر خیر خواہ اور مساوات کو کس رنگ میں قائم کرنے والا تھا کہ اس نے فرمایا " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم “۔66 پس اس کے بعد حضرت موسیٰ ہو یا حضرت عیسی علیہما السلام ان کو یا ان کے ماننے والوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اعلان کے بعد بھی وہ یہ کہیں کہ حضرت موسیٰ یا حضرت عیسی علیہما السلام دوسرے انسانوں سے بحیثیت انسان ارفع اور اعلیٰ تھے۔میں انہیں ہمدردی و غم خواری اور پیار و محبت کی بہت سی مثالیں دیتا تھا جماعت احمدیہ کا عمل ان کے سامنے پیش کرتا تھا۔اپنی پچاس سالہ تاریخ ان کے روبرود ہرا تا تھا اور میں انہیں بتا تا تھا کہ یہ تو درست ہے کہ آج سے چند صدیاں قبل مسیحیت تمہارے ملکوں میں یہی نعرے لگاتے ہوئے داخل ہوئی تھی کہ ہم پیار کا Love ( کو ) کا پیغام لے کر آرہے ہیں لیکن محبت کے اس پیغام کے جھنڈے ان تو پوں پر گاڑے گئے تھے جو یورپ کی مختلف اقوام کی فوجوں کے پاس تھیں اور ان