خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 87
خطبات ناصر جلد دوم AL خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء کریں تو ساری بھڑیں اس چھتہ کی بڑے غیض اور بڑے غصہ کا اظہار کرتی ہیں اور ایک آواز پیدا ہوتی ہے ان کی غصہ سے۔تو جتنی غیرت بھڑوں کے چھتہ میں ہے کیا اتنی غیرت بھی اہلِ ربوہ میں باقی نہیں رہی ؟ یہ امن کا ماحول تھا اور امن کا ماحول قائم رکھنا چاہیے میرے پاس رپورٹ کیوں آئے ؟ مجھے کسی قسم کا اقدام کرنے کی ضرورت کیوں پیش ہو؟ اگر سب لوگوں کو یہ پتہ ہو کہ ربوہ ان چیزوں کو برداشت نہیں کرتا۔ربوہ میں برسر عام سگریٹ نہیں پیا جاسکتا۔ربوہ کے بازاروں میں گالی نہیں دی جاسکتی۔ربوہ کے بازاروں میں لڑائی جھگڑانہیں کیا جا سکتا۔ربوہ کے مکانوں میں نمازوں کے اوقات میں مسجدوں کو معمور کرنے کی بجائے ٹھہر انہیں جاسکتا تو پھر ہمارا ماحول جنت کا ماحول ہو جائے اور جنت ہی پیدا کرنے کے لئے ہمیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔پس اے میرے عزیز ربوہ کے مکینو! اپنے ستوں کو چست کرو اور کمزوروں کو مضبوط بناؤ اور غافلوں کو بیدار کرو کیونکہ اس قسم کی کمزوریاں ربوہ میں برداشت نہیں کی جاسکتیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں مذکورہ چار صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق عطا کرے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۹ مارچ ۱۹۶۸ ، صفحه ۲ تا ۶ )