خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 956
خطبات ناصر جلد دوم ۹۵۶ خطبه جمعه ۲۴/اکتوبر ۱۹۶۹ء چاہئیں۔اگر ہم سے یہ مطالبہ ہو کہ تمہارے روپے کی ضرورت ہے تو ہمیں اپنے اموال پیش کر دینے چاہئیں تاکہ ساری دنیا میں اسلام کے مبلغ پہنچیں اور وہاں اللہ تعالیٰ کا نام بلند کریں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کی صداقت میں جو ز بر دست دلائل دیئے ہیں وہ دنیا کے سامنے پیش کریں اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ( جیسا کہ اب بھی بعض سے یہی سلوک ہوتا ہے ) ان کے ذریعہ سے غافل اور اندھیرے میں بسنے والے بندوں کو آسمانی نشان بھی دکھائے جہاں بھی اس نیت کے ساتھ ایک احمدی مبلغ پہنچا ہے اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے اس نے حیران کن نظارے دیکھے ہیں اور جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کے دلوں میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق پیدا کرتا ہے۔پس تخم تو بویا گیا یہ بڑھے گا اور پھولے گا اور ثمر آور ہوگا لیکن اس تخم کی نشوونما کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے اس کو ہم نے پیش کرنا اور مہیا کرنا ہے۔غرض یہ عظیم بشارتیں ہیں جو ہمیں دی گئی ہیں اور عظیم قربانیاں ہیں جن کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے۔پس آؤ ہم آج یہ عہد کریں کہ ہم سے جس قسم کی عظیم قربانیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے ہم اپنے رب کے حضور وہ قربانیاں پیش کریں گے تا کہ ہماری یہ عظیم خواہش کہ ہم اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے ساری دنیا کے انسانوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کو پیدا ہوتے دیکھیں، یہ خواہش پوری ہو جائے۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور وہ ہمیں سمجھ عطا فرمائے اور وہ ہمیں توفیق بخشے کہ ہم اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتہائی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان قربانیوں کو قبول فرمائے اور اپنے پیار کی اور ا پنی رضا کی چادر میں ہمیں لپیٹ لے۔ایک پیار کرنے والی ماں کی طرح ہمیں اپنی گود میں بٹھالے۔اللهم آمین روزنامه الفضل ربوه ۴ / دسمبر ۱۹۶۹ء صفحه ۳ تا ۶ )