خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 918
خطبات ناصر جلد دوم ۹۱۸ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء رضا کو حاصل کرے یعنی اگر لوگ یہ نیت کر لیں کہ ہم نے اپنے ساتھی کے ساتھ یا اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے اس کے جذبات کا خیال رکھنا ہے، اس کے آرام کا خیال رکھنا ہے اور یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کرنا ہے تو اس صورت میں انسان کی یہ نیک نیتی اس کے دنیوی اور ذاتی کاموں کو بھی روحانی رنگ دے دے گی۔اُس کے اس خلوص نیت کے باعث اس کے اعمال پر جو رنگ چڑھے گا وہ اُسے اللہ تعالیٰ کی محبت کی نگاہ کا مورد بنا دے گا۔پس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں اور استعدادوں کو بھی اور اسی طرح انسان کو ملنے والی دوسری ہر قسم کی نعمتوں کو بھی صحیح اور پورے طور پر استعمال میں لانا نہایت ضروری ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کے الفاظ میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ جب تم ہر عطائے الہی کو فضل الہی کے حصول کا ذریعہ بنانے کی کوشش کر لو گے اور اپنی تدبیر کو انتہا تک پہنچا دو گے تو پھر میرے پاس آنا اور نہایت عاجزانہ اور منکسرانہ طور پر میرے حضور یہ عرض کرنا کہ اے خدا ! تو نے اپنے فضل سے مجھے یہ قو تیں عطا کیں اور ان کی نشوو نما کے لئے ہر قسم کے سامان پیدا کئے۔میں نے اپنی قوت کے مطابق اپنی طاقت کے مطابق اور اپنی استعداد کے مطابق تیرے عطا کردہ سامانوں کو تیری رضا کے حصول کے لئے استعمال کیا لیکن نہ تو میرا بھروسہ اپنی ان قوتوں اور طاقتوں اور استعدادوں پر ہے جو تُو نے مجھے عطا کی ہیں اور نہ میرا تکیہ اُن اسباب پر ہے جو تو نے میرے لئے پیدا کئے ہیں۔یہ قو تیں اور طاقتیں بے نتیجہ اور یہ استعدادیں بے کار ہو جاتی ہیں اور یہ اسباب بے سود ہو کر رہ جاتے ہیں اگر تیر افضل شامل حال نہ ہو اس لئے تو اپنا فضل فرما اور اپنی رحمت سے ہماری کوششوں میں برکت ڈال تا کہ ہمیں اپنی زندگی کا مقصد حاصل ہو جائے۔پس ايَّاكَ نَعْبُ میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں اور دوسری نعماء کما حقہ استعمال کریں۔اُن سے پورا پورا فائدہ اُٹھا ئیں ، تدبیر کریں اور پھر اس کو انتہا تک پہنچا ئیں اور پھرا اپنی کوششوں پر تکیہ نہ کرتے ہوئے اُسی سے دعا کرتے رہیں اور اس کے حضور جھکے رہیں کیونکہ دین و دنیا کی کوئی بھی بھلائی اور بہتری اُس کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان میں سے سب سے بڑی نعمت قرآن عظیم ہے۔